چیئرمین مکمل پاکستان پارٹی نے اپنے خطاب میں دو ٹوک انداز میں کہا کہ جب وہ خود کو دنیا کا امیر ترین شخص کہتے ہیں تو اس کا مطلب ذاتی دولت کا روایتی تصور نہیں بلکہ قومی اور اجتماعی دولت کا شعور ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ تقریباً سات لاکھ چھیانوے ہزار مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا پاکستان، اپنے تمام وسائل، پہاڑوں، دریاؤں اور معدنی خزانوں کے ساتھ ایک اجتماعی دولت ہے، جسے وہ بطور نمائندہ اپنی بھی دولت سمجھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ ایک نظریاتی اور علامتی اظہار ہے—کہ اگر ایک قوم اپنے وسائل کو اپنی طاقت سمجھے تو ہر فرد خود کو مضبوط اور امیر محسوس کر سکتا ہے۔ اسی لیے وہ خود کو اس تناظر میں دنیا کا امیر ترین شخص کہتے ہیں، اور تمام پاکستانیوں کو بھی یہی سوچ اپنانے کی دعوت دیتے ہیں۔
تاہم انہوں نے سختی سے اس غلط فہمی کو رد کیا کہ اس کا مطلب ذاتی قبضہ یا ذاتی استعمال ہے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ اس علامتی بات کو غلط سمجھ کر اجتماعی وسائل کو ذاتی جاگیر سمجھنے لگتے ہیں، جو ایک خطرناک سوچ ہے۔ قومی دولت ہمیشہ اجتماعی امانت ہوتی ہے، اور اسے عوام کی فلاح اور ریاست کی ترقی کے لیے ہی استعمال ہونا چاہیے۔
چیئرمین نے زور دے کر کہا کہ “ذاتی” کا لفظ یہاں ایک علامت ہے—احساسِ ملکیت اور ذمہ داری پیدا کرنے کے لیے، نہ کہ ذاتی فائدے کے لیے۔ اصل مقصد یہ ہے کہ ہر پاکستانی خود کو اس ملک کا حقیقی مالک سمجھے، لیکن اسی کے ساتھ اپنی ذمہ داری بھی پہچانے۔
انہوں نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا کہ مکمل پاکستان پارٹی اسی شعور کو بیدار کرنا چاہتی ہے—کہ ہم سب اس ملک کے وارث بھی ہیں اور محافظ بھی، اور یہی سوچ پاکستان کو حقیقی معنوں میں مضبوط اور خودمختار بنائے گی۔
0092-313-5000-734
