وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے بڑے سرکاری اسپتال میں 15 معصوم نومولود بچوں کا آگ کی نذر ہو جانا انتہائی افسوسناک اور دل دہلا دینے والا سانحہ ہے۔ اگرچہ اس واقعے کی مکمل حقیقت تحقیقات کے بعد سامنے آئے گی، تاہم اس سانحے نے اسپتال کے انتظامی اور حفاظتی نظام پر کئی سنگین سوالات ضرور کھڑے کر دیے ہیں۔
اگر یہ محض ایک حادثہ تھا تو سب سے اہم سوال یہ ہے کہ صرف معصوم نومولود ہی آگ کی لپیٹ میں کیوں آئے؟ اس وقت ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹرز، نرسز، پیرامیڈیکل اسٹاف اور دیگر متعلقہ عملہ کہاں تھا؟ نومولود بچوں کو بروقت محفوظ مقام پر منتقل کرنے کی کوشش کیوں نہ کی جا سکی؟ کیا وارڈ میں فائر الارم، ایمرجنسی رسپانس، فائر سیفٹی اور انخلا کا مؤثر نظام موجود تھا؟
یہ بھی واضح ہونا چاہیے کہ آگ لگنے کے وقت متعلقہ عملہ اپنی ڈیوٹی پر کہاں موجود تھا، کس کی کیا ذمہ داری تھی اور ہنگامی صورتحال میں بچوں کے فوری ریسکیو کے لیے مقررہ پروٹوکول پر عمل کیوں نہیں ہوا؟
یہ سانحہ کسی ایک نچلے درجے کے ملازم کو ذمہ دار قرار دے کر ختم نہیں کیا جا سکتا۔ ذمہ داری انتظامی سطح تک طے ہونی چاہیے۔ آزاد، شفاف اور غیرجانبدار تحقیقات کے ذریعے یہ معلوم کیا جائے کہ حفاظتی انتظامات میں کہاں کوتاہی ہوئی، ایمرجنسی رسپانس میں تاخیر کیوں ہوئی اور معصوم بچوں کو بروقت کیوں نہ بچایا جا سکا۔
ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ تحقیقات مکمل کر کے غفلت کے ذمہ دار ہر شخص، افسر اور متعلقہ انتظامی سطح کا تعین کیا جائے اور قانون کے مطابق سخت ترین کارروائی عمل میں لائی جائے، تاکہ آئندہ کسی اسپتال میں ایسی المناک غفلت کے نتیجے میں کسی معصوم کی جان نہ جائے۔
حکمرانوں اور متعلقہ اداروں سے سوال ہے:
کیا 15 معصوم بچوں کی جانیں بھی آپ کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیے کافی نہیں؟
محمد عبدالمتین ہاشمی
چیئرمین، مکمل پاکستان پارٹی

0092-313-5000-734
