0092-313-5000-734    
Jobs  |   14 Oct 2026

گلشنِ حدید کا افسوسناک واقعہ — معاشرتی بے حسی اور انسانی احساسات کی موت لمحۂ فکریہ ہے

| 14 Oct 2026  
کراچی کے علاقے گلشنِ حدید میں ایک ہی خاندان کے پانچ افراد کی ہلاکت کا دل دہلا دینے والا واقعہ انتہائی افسوسناک ہے۔ اس سانحے نے ہمارے معاشرے میں بڑھتی ہوئی تنہائی، معاشرتی بے حسی، معاشی مشکلات اور انسانی رشتوں میں کم ہوتی ہوئی ہمدردی کے حوالے سے کئی سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
مبینہ طور پر سامنے آنے والے خط میں مدد کے لیے لوگوں کے دروازے کھٹکھٹانے، مایوسی اور تنہائی کا ذکر ایک ایسے معاشرتی المیے کی نشاندہی کرتا ہے جسے نظرانداز کرنا کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ اگر کوئی انسان مشکل وقت میں مدد کی امید لے کر ہمارے پاس آئے تو اسے دھتکارنا، اس کی تضحیک کرنا یا اس کی پریشانی کو معمولی سمجھنا ہماری اجتماعی ذمہ داریوں سے غفلت ہے۔
**ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ آخر ایک انسان کس حد تک مایوسی اور بے بسی کا شکار ہو جاتا ہے کہ اسے اپنے اردگرد امید کی کوئی کرن دکھائی نہیں دیتی؟** کسی کی مشکلات کا مذاق اڑانا، ضرورت کے وقت منہ موڑ لینا اور کسی کی خاموش تکلیف کو نظرانداز کرنا انسانیت کے بنیادی تقاضوں کے منافی ہے۔
میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ مالی مشکلات، ذہنی دباؤ اور گھریلو پریشانیوں کا شکار افراد کو تنہا چھوڑ دینا کسی مہذب معاشرے کا رویہ نہیں ہو سکتا۔ ہر شخص مالی مدد کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا، لیکن عزت سے بات کرنا، حوصلہ دینا، کسی کی بات سننا اور ضرورت پڑنے پر متعلقہ اداروں تک پہنچانا ہر فرد کے بس میں ہے۔
تاہم، اس سانحے کی مکمل وجوہات کا تعین مستند تحقیقات کے بعد ہی ہونا چاہیے۔ ہمیں کسی ایک فرد یا پورے معاشرے کو بغیر ثبوت ذمہ دار ٹھہرانے کے بجائے ان حالات کو سمجھنا ہوگا جن میں خاندان شدید مایوسی کا شکار ہوا۔ بچوں کی جان کا ضیاع بالخصوص ایک ایسا ناقابلِ تلافی سانحہ ہے جسے کسی صورت معمولی نہیں سمجھا جا سکتا۔
**مکمل پاکستان پارٹی کا مؤقف ہے کہ ایک مضبوط معاشرہ صرف عمارتوں، سڑکوں اور معاشی ترقی سے نہیں بنتا، بلکہ اس کی اصل بنیاد انصاف، احساسِ ذمہ داری، باہمی تعاون اور انسان کی عزت و وقار ہے۔** ہمیں ایسا معاشرہ تشکیل دینا ہوگا جہاں پریشان حال انسان کو طعنوں کے بجائے سہارا، نفرت کے بجائے ہمدردی اور بے حسی کے بجائے عملی مدد میسر ہو۔
میں تمام شہریوں سے اپیل کرتا ہوں کہ اپنے اردگرد موجود لوگوں کے حالات سے باخبر رہیں۔ اگر کوئی شخص شدید مایوسی، تنہائی یا مالی پریشانی کا شکار نظر آئے تو اس کی بات سنیں، اس کے ساتھ عزت سے پیش آئیں اور ضرورت کے مطابق قابلِ اعتماد افراد یا متعلقہ مددگار اداروں سے رابطہ کروائیں۔
یاد رکھیے، **کسی کی پریشانی کو سمجھنے کے لیے دولت نہیں، احساس چاہیے؛ اور کسی کو امید دینے کے لیے بڑے عہدے نہیں، انسانیت چاہیے۔**
اللہ تعالیٰ جاں بحق افراد کی مغفرت فرمائے، ان کے لواحقین کو صبر عطا کرے اور ہمارے معاشرے کو احساس، ہمدردی اور ایک دوسرے کا سہارا بننے کی توفیق دے۔ آمین۔
**محمد عبدالمتین ہاشمی**
چیئرمین، مکمل پاکستان پارٹی