پاکستان اس وقت ایسے قومی حالات سے گزر رہا ہے جہاں دہشت گردی کا خاتمہ، عوام کے جان و مال کا تحفظ، آئین کی بالادستی اور جمہوری تسلسل غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے معاملے پر جاری بحث ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ قومی سلامتی اور جمہوری اصولوں کے درمیان توازن کیسے برقرار رکھا جائے۔
خیبر پختونخوا کے عوام، پولیس اور سکیورٹی اداروں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ ان قربانیوں کا تقاضا ہے کہ ریاست عوام کو پائیدار امن فراہم کرنے کے لیے مؤثر اور مربوط اقدامات کرے۔ پاکستان کی سلامتی اور شہریوں کا تحفظ ہر سیاسی مفاد سے بالاتر ہونا چاہیے، تاہم ریاستی اقدامات آئین، قانون اور بنیادی حقوق کے دائرے میں رہ کر کیے جانا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔
گورنر راج ایک غیر معمولی آئینی اقدام ہے، جس کے استعمال میں قانونی تقاضوں، واضح وجوہات اور متعلقہ آئینی طریقۂ کار کی پابندی ناگزیر ہے۔ اگر ایسے اقدام کو ضروری سمجھا جائے تو اس کا مقصد امن و امان کی بحالی اور آئینی نظام کی طرف واپسی ہونا چاہیے، نہ کہ سیاسی اختلافات کو محدود کرنا یا عوامی مینڈیٹ کو نظرانداز کرنا۔
جمہوریت کا بنیادی اصول یہ ہے کہ حکومتیں عوام کے ووٹ سے قائم ہوتی ہیں اور ان کی کارکردگی کا جائزہ آئینی و جمہوری طریقوں سے لیا جاتا ہے۔ اختلافِ رائے جمہوریت کا حصہ ہے، جبکہ قانون کی بالادستی کا تقاضا ہے کہ ہر شخص اور ہر ادارہ اپنی آئینی حدود میں رہ کر کام کرے۔ قومی سلامتی اور عوامی حقوق کو ایک دوسرے کے مقابل کھڑا کرنے کے بجائے دونوں کا تحفظ یقینی بنانا ضروری ہے۔
خیبر پختونخوا میں پائیدار امن صرف سکیورٹی اقدامات سے حاصل نہیں ہو سکتا۔ پولیس اور انسدادِ دہشت گردی کے اداروں کی استعداد میں اضافہ، مؤثر انٹیلی جنس رابطے، دہشت گردی کی مالی معاونت کی روک تھام اور متاثرہ علاقوں میں انتظامی عمل داری کے ساتھ تعلیم، صحت، روزگار اور نوجوانوں کے لیے مثبت مواقع بھی فراہم کرنا ہوں گے۔
اس مقصد کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان مؤثر تعاون ناگزیر ہے۔ سیاسی قیادت کو چاہیے کہ وہ محاذ آرائی کے بجائے مذاکرات، مشاورت اور مشترکہ حکمتِ عملی کو ترجیح دے۔ آئینی معاملات پر اختلافات کو متعلقہ قانونی اور عدالتی فورمز پر حل کیا جائے، تاکہ ریاستی اداروں پر اعتماد اور جمہوری تسلسل برقرار رہے۔
مکمل پاکستان پارٹی کا مؤقف ہے کہ قومی سلامتی، آئین کی بالادستی، صوبائی خودمختاری اور عوامی مینڈیٹ ایک مستحکم پاکستان کے باہم مربوط ستون ہیں۔ غیر معمولی انتظامی اقدامات کی وجوہات اور قانونی بنیاد واضح ہونی چاہیے، پارلیمانی نگرانی کو مؤثر بنایا جانا چاہیے اور حالات معمول پر آنے کے بعد آئینی و جمہوری نظام کی بحالی کے لیے واضح طریقۂ کار اختیار کیا جانا چاہیے۔
پاکستان کو اس وقت سیاسی تصادم نہیں بلکہ قومی یکجہتی، ذمہ دارانہ قیادت اور قانون کی حکمرانی کی ضرورت ہے۔ خیبر پختونخوا کے عوام امن، انصاف، عزت اور ترقی کے مستحق ہیں۔ ان کے مسائل کا حل سیاسی کشمکش میں نہیں بلکہ ایسے عملی اقدامات میں ہے جو ان کی جان و مال کا تحفظ کریں اور ان کے بنیادی حقوق کی ضمانت دیں۔
میرا یقین ہے کہ ایک مضبوط ریاست وہی ہوتی ہے جہاں دہشت گردی کے خلاف مؤثر کارروائی ہو، ادارے آئینی حدود میں رہ کر کام کریں، حکومتیں جواب دہ ہوں اور ہر شہری کو انصاف میسر ہو۔ قومی سلامتی اور جمہوریت ایک دوسرے کی مخالف نہیں بلکہ ایک مستحکم اور خوشحال پاکستان کی بنیاد ہیں۔
محمد عبدالمتین ہاشمی
چیئرمین، مکمل پاکستان پارٹی
ایمان، اتحاد، تنظیم اور عدل — مستقبل ہمارا۔
0092-313-5000-734
