**3 کروڑ 20 لاکھ سے زائد افراد ذہنی و نفسیاتی مسائل سے متاثر ہونے کی تخمینی تعداد، جبکہ ہر 8 میں سے تقریباً ایک پاکستانی کے متاثر ہونے کی تشویش ناک صورتِ حال!**
پاکستان میں ذہنی دباؤ، ڈپریشن اور بے چینی جیسے مسائل میں اضافے کے پیچھے صرف انفرادی کمزوریاں نہیں، بلکہ معاشی، معاشرتی اور نظام سے جڑے عوامل بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
بے روزگاری، مہنگائی، غربت، کم آمدنی، بڑھتے اخراجات، قرضوں کا بوجھ، مستقبل کے بارے میں غیر یقینی، خاندانی تنازعات، معاشرتی دباؤ اور روزگار کے محدود مواقع انسان کے ذہنی سکون کو متاثر کر سکتے ہیں۔ جب ایک شخص مسلسل معاشی پریشانیوں اور روزمرہ مشکلات میں گھرا رہے اور اسے اپنے مستقبل کے لیے کوئی واضح راستہ نظر نہ آئے تو اس کی ذہنی صحت بھی متاثر ہونے لگتی ہے۔
**سوال یہ ہے کہ اگر ہم ذہنی مسائل کی روک تھام چاہتے ہیں تو ان بنیادی وجوہات کو ختم کرنے کے لیے کیا کر رہے ہیں؟**
چیئرمین مکمل پاکستان پارٹی **محمد عبدالمتین ہاشمی** کے نقطۂ نظر کے مطابق، اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے ضروری ہے کہ:
ذہنی صحت کے مسائل کی تمام وجوہات معاشی نہیں ہوتیں، لیکن معاشی اور سماجی مشکلات ان میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ اس لیے صرف علامات پر بات کرنے کے بجائے ان حالات کو بہتر بنانا بھی ضروری ہے جو لوگوں کو مسلسل ذہنی دباؤ میں مبتلا رکھتے ہیں۔
**محمد عبدالمتین ہاشمی، چیئرمین مکمل پاکستان پارٹی، کا پیغام ہے کہ ایک مضبوط اور خوشحال پاکستان کے لیے ایسی پالیسیاں ضروری ہیں جو عوام کو صرف زندہ رہنے کا نہیں، بلکہ سکون، عزت اور امید کے ساتھ زندگی گزارنے کا موقع بھی فراہم کریں۔**
**عوام کو صرف مسائل برداشت کرنے کا مشورہ نہیں، مسائل سے نکلنے کے مواقع دیجیے!**
**محمد عبدالمتین ہاشمی**
چیئرمین، مکمل پاکستان پارٹی (MPP)
*ایمان، اتحاد، تنظیم اور عدل — مستقبل ہمارا۔*
0092-313-5000-734
