0092-313-5000-734    
Jobs  |   13 May 2026

آج اس “آل پارٹیز اتحاد بین المسلمین کانفرنس” میں شرکت میرے لیے باعثِ عزت بھی ہے

| 13 May 2026  

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔

آج اس “آل پارٹیز اتحاد بین المسلمین کانفرنس” میں شرکت میرے لیے باعثِ عزت بھی ہے اور باعثِ امید بھی۔ امید اس لیے کہ جب امت کے مختلف طبقات، مختلف مسالک، مختلف جماعتیں اور مختلف سوچ رکھنے والے لوگ ایک چھت کے نیچے جمع ہوتے ہیں تو یہ صرف ایک کانفرنس نہیں رہتی بلکہ یہ امتِ مسلمہ کے مستقبل کی امید بن جاتی ہے۔

میرے محترم حاضرین!
آج دنیا مسلمانوں کی تعداد سے نہیں، ان کی حالت سے سوال کر رہی ہے۔
ڈیڑھ ارب سے زائد مسلمان… لیکن کمزور کیوں؟
وسائل بے شمار… لیکن اختیار دوسروں کے ہاتھ میں کیوں؟
قرآن موجود… لیکن زندگیوں میں سکون کیوں نہیں؟

اس کا سب سے بڑا سبب کیا ہے؟
وہ سبب ہے تفرقہ، نفرت، تعصب اور ایک دوسرے سے دوری۔

قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

> وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللّٰهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا
“اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقے میں نہ پڑو۔”

آج ہمیں سوچنا ہوگا کہ ہم نے اللہ کے اس حکم کے ساتھ کیا سلوک کیا؟
ہم نے مسجدیں تو بنا لیں، مگر دلوں کے درمیان دیواریں بھی کھڑی کر دیں۔
ہم نے دین کے نام پر محبت کے بجائے نفرتیں بانٹ دیں۔
حالانکہ اسلام کا پیغام تلوار سے پہلے اخلاق، محبت، اخوت اور انسانیت کا پیغام ہے۔

میرے عزیز بھائیو!
یہ کانفرنس صرف تقریروں، تصویروں اور نعروں کے لیے نہیں ہونی چاہیے۔
یہ ایک عہد ہونا چاہیے۔
یہ ایک اعلان ہونا چاہیے کہ:

ہم اختلاف کریں گے مگر دشمنی نہیں کریں گے۔

ہم اپنے مسلک سے محبت کریں گے مگر دوسرے کی توہین نہیں کریں گے۔

ہم دلیل سے بات کریں گے، گالی سے نہیں۔

ہم امت کو جوڑیں گے، توڑیں گے نہیں۔

یاد رکھئے!
مسلمان کا سب سے بڑا حسن اس کا اخلاق ہے۔
اگر زبان نفرت اگلے اور دل تکبر سے بھر جائے تو پھر عبادتیں بھی روح کھو دیتی ہیں۔

آج دشمن ہمیں توپوں سے کم اور نفرتوں سے زیادہ شکست دے رہا ہے۔
وہ جانتا ہے کہ اگر مسلمان ایک ہوگئے تو دنیا کی کوئی طاقت ان کے سامنے کھڑی نہیں رہ سکے گی۔
اس لیے وہ ہمیں قومیت، زبان، مسلک، فرقے، سیاست اور مفادات کی بنیاد پر تقسیم کرتا ہے۔

لیکن آج یہاں سے ایک آواز اٹھنی چاہیے…
ایسی آواز جو ایوانوں تک جائے…
ایسی آواز جو مدارس، مساجد، خانقاہوں، یونیورسٹیوں اور گھروں تک پہنچے…
کہ:

> “مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں؛
اگر جسم کے ایک حصے کو تکلیف ہو تو پورا جسم بے چین ہوجاتا ہے۔”

میرے محترم حاضرین!
اتحاد کا مطلب یہ نہیں کہ سب اپنے نظریات چھوڑ دیں۔
اتحاد کا مطلب یہ ہے کہ:
مشترکات پر اکٹھے ہوجائیں اور اختلافات میں برداشت پیدا کریں۔

ہم سب کا رب ایک،
رسول ﷺ ایک،
قرآن ایک،
کعبہ ایک،
کلمہ ایک،
تو پھر ہم کیوں تقسیم ہیں؟

آج نوجوان نسل ہم سے سوال کر رہی ہے۔
وہ پوچھ رہی ہے کہ:
“اگر دین محبت سکھاتا ہے تو مسلمان آپس میں کیوں لڑتے ہیں؟”

ہمیں اپنی آنے والی نسلوں کو نفرت نہیں، اخوت دینی ہوگی۔
ہمیں انہیں سوشل میڈیا کی گالم گلوچ نہیں بلکہ سیرتِ مصطفی ﷺ کا اخلاق دینا ہوگا۔

میں تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں، علماء کرام، مشائخ عظام اور اہلِ دانش سے اپیل کرتا ہوں کہ:

اپنے خطبات میں اتحاد کی بات کریں۔

اپنے کارکنوں کو برداشت سکھائیں۔

اپنے اختلافات کو دشمنی میں تبدیل نہ ہونے دیں۔

پاکستان کے امن، استحکام اور امتِ مسلمہ کی بقا کے لیے ایک مشترکہ بیانیہ تشکیل دیں۔

کیونکہ یاد رکھئے:
جب قومیں اندر سے ٹوٹتی ہیں تو باہر کے دشمن حملہ نہیں کرتے… صرف قبضہ کر لیتے ہیں۔

آئیے!
آج ہم سب مل کر یہ عہد کریں کہ:

ہم نفرت کے بجائے محبت بانٹیں گے۔

ہم فساد کے بجائے امن کا پیغام دیں گے۔

ہم امت کو تقسیم نہیں، متحد کریں گے۔

ہم اسلام کے حقیقی چہرے؛ یعنی رحم، عدل، برداشت اور اخوت کو دنیا کے سامنے پیش کریں گے۔

آخر میں دعا ہے:

یا اللہ!
امتِ مسلمہ کے دلوں میں محبت پیدا فرما۔
ہمیں تفرقہ، نفرت اور انتشار سے بچا۔
نائب صدر سیف الرحمن بھٹی
مکمل پاکستان پارٹی