0092-313-5000-734    
Jobs  |   13 Sep 2026

پاکستان کو BRICS کے قریب کیوں جانا چاہیے؟ بدلتے ہوئے عالمی نظام میں پاکستان کو اپنا مقام خود بنانا ہوگا تحریر: محمد عبدالمتین ہاشمی چیئرمین مکمل پاکستان پارٹی

| 13 Sep 2026  

دنیا 2026ء میں ایک گہری تبدیلی کے دور سے گزر رہی ہے۔

حالیہ دنوں میں نئی دہلی میں ہونے والی BRICS سربراہ کانفرنس نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ دنیا میں طاقت کا توازن تبدیل ہو رہا ہے۔ BRICS اب صرف چند ابھرتی ہوئی معیشتوں کے درمیان تعاون کا پلیٹ فارم نہیں رہا، بلکہ یہ بتدریج گلوبل ساؤتھ کے ممالک کے لیے عالمی معاملات میں اپنی آواز مؤثر انداز میں پیش کرنے اور اپنے مشترکہ مفادات کے تحفظ کا ایک اہم پلیٹ فارم بنتا جا رہا ہے۔

موجودہ عالمی حالات میں، جب بین الاقوامی کشیدگی، علاقائی تنازعات، تجارتی دباؤ اور معاشی غیر یقینی میں اضافہ ہو رہا ہے، BRICS کی جانب سے کثیرالجہتی نظام، عالمی حکمرانی میں اصلاحات، مصنوعی ذہانت، تجارت اور مالیاتی تعاون جیسے موضوعات پر توجہ ترقی پذیر ممالک کے لیے خاص اہمیت رکھتی ہے۔

تو پاکستان کو BRICS کو کس نظر سے دیکھنا چاہیے؟

میرا جواب بالکل واضح ہے:

پاکستان کو BRICS کے قریب جانا چاہیے اور اس کی رکنیت حاصل کرنے کی کوشش جاری رکھنی چاہیے۔

لیکن اس کے ساتھ ہمیں BRICS کو درست تناظر میں سمجھنے کی ضرورت ہے۔

BRICS کو کسی ایک ملک یا مغربی ممالک کے خلاف سیاسی اتحاد سمجھنا درست نہیں ہوگا۔

پاکستان کے لیے BRICS سب سے بڑھ کر معاشی تعاون، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی، تجارت اور عالمی سفارت کاری کا ایک اہم پلیٹ فارم ہونا چاہیے۔

پاکستان نے 2023ء میں باضابطہ طور پر BRICS کی رکنیت کے لیے درخواست دی تھی، تاہم ابھی تک پاکستان مکمل رکن نہیں بن سکا۔

ہمیں اس صورتحال سے مایوس نہیں ہونا چاہیے۔

اس کے بجائے ہمیں ایک زیادہ اہم سوال پر غور کرنا چاہیے:

پاکستان کو BRICS کی ضرورت کیوں ہے؟

اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان ہمیشہ روایتی معاشی اور سفارتی راستوں پر انحصار نہیں کر سکتا۔

پاکستان 25 کروڑ سے زائد آبادی، ایک بڑی صارف مارکیٹ، نوجوان آبادی، قدرتی و معدنی وسائل، اہم جغرافیائی محل وقوع اور جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا، مشرق وسطیٰ اور چین کے درمیان ایک منفرد جغرافیائی حیثیت رکھتا ہے۔

اگر پاکستان ان صلاحیتوں کو حقیقی معاشی طاقت میں تبدیل کر لے تو پاکستان خطے کا ایک اہم معاشی اور تجارتی مرکز بن سکتا ہے۔

خصوصاً چین کے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے اور پاک چین اقتصادی راہداری کی موجودگی میں پاکستان کو اپنی جغرافیائی اہمیت سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے۔

پاکستان کی سب سے بڑی دولت صرف اس کی زمین اور وسائل نہیں بلکہ مختلف خطوں کو آپس میں جوڑنے کی اس کی صلاحیت بھی ہے۔

اسی لیے ہمیں پاکستان کی خارجہ پالیسی کو نئے انداز میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔

پاکستان کو کسی بڑے ملک کا تابع نہیں بننا چاہیے۔

اسی طرح پاکستان کو کسی بڑے ملک کو اپنا مستقل دشمن بھی نہیں سمجھنا چاہیے۔

ہمارا اصول بہت سادہ ہونا چاہیے:

جو تعاون پاکستان کی ترقی اور قومی مفاد میں ہو، پاکستان کو اس کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے۔

ہم چین کے ساتھ اپنے جامع تعاون کو مزید مضبوط کرنا چاہتے ہیں۔

ہم روس کے ساتھ توانائی، تجارت اور علاقائی معاملات میں تعاون بڑھانا چاہتے ہیں۔

ہم امریکہ کے ساتھ تجارت، سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون کے دروازے کھلے رکھنا چاہتے ہیں۔

ہم یورپی ممالک کے ساتھ تجارتی تعلقات کو وسعت دینا چاہتے ہیں۔

ہم عرب دنیا، اسلامی ممالک اور وسطی ایشیا کے ساتھ اپنے معاشی روابط کو مزید مضبوط کرنا چاہتے ہیں۔

یہ کسی قسم کی غیر واضح یا غیر متوازن پالیسی نہیں۔

یہ ایک بالغ، آزاد اور قومی مفاد پر مبنی خارجہ پالیسی ہے۔

پاکستان کو دنیا کی بڑی طاقتوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے کی ضرورت نہیں، بلکہ پاکستان کو خود اتنا مضبوط بننے کی ضرورت ہے کہ دنیا پاکستان کے ساتھ شراکت داری کو اپنے مفاد میں سمجھے۔

آج BRICS مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل معیشت، تجارت، مالیات، توانائی اور عالمی حکمرانی جیسے اہم شعبوں پر توجہ دے رہا ہے۔

یہ پاکستان کے لیے انتہائی اہم ہے۔

پاکستان کے پاس ایک بہت بڑی نوجوان آبادی ہے۔

اگر ہم اس نوجوان آبادی کو ٹیکنالوجی کے ماہرین، AI ماہرین، انجینئرز، کاروباری افراد اور جدید صنعت کے ہنرمند کارکنوں میں تبدیل کر دیں تو پاکستان کی سب سے بڑی مسابقتی طاقت صرف سستی افرادی قوت نہیں بلکہ جدید تعلیم اور ٹیکنالوجی سے لیس نوجوان نسل ہوگی۔

اسی لیے میری رائے میں:

پاکستان کا مستقبل میں BRICS میں شامل ہونا صرف ایک بین الاقوامی تنظیم کی نشست حاصل کرنے کے لیے نہیں ہونا چاہیے۔

اصل مقصد ہونا چاہیے:

تجارت، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی، تعلیم، توانائی، صنعت اور عالمی تعاون کو وسعت دینا۔

لیکن ہمیں یہ حقیقت بھی سمجھنی ہوگی کہ عالمی برادری صرف درخواست دینے کی بنیاد پر پاکستان کو عالمی نظام میں زیادہ اہم مقام نہیں دے گی۔

مقام طاقت سے حاصل ہوتا ہے۔

اگر ہم BRICS کے ایک اہم شراکت دار بننا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے ہمیں پاکستان کے اندر ایک مستحکم، شفاف، مؤثر اور مسابقتی نظام قائم کرنا ہوگا۔

ہمیں توانائی کا مسئلہ حل کرنا ہوگا۔

ہمیں صنعت کو فروغ دینا ہوگا۔

ہمیں برآمدات بڑھانا ہوں گی۔

ہمیں تعلیم کا معیار بہتر بنانا ہوگا۔

ہمیں AI اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے ماہرین تیار کرنا ہوں گے۔

ہمیں عالمی سرمایہ کاری کو پاکستان کی طرف راغب کرنا ہوگا۔

اور سب سے بڑھ کر ہمیں ایسی پالیسیوں کا تسلسل یقینی بنانا ہوگا جس سے ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کار پاکستان میں اعتماد کے ساتھ سرمایہ کاری کر سکیں۔

اس لیے BRICS کی حکمت عملی کا ایک بڑا حصہ دراصل پاکستان کے اندرونی نظام سے جڑا ہوا ہے۔

مضبوط معاشی بنیاد کے بغیر خارجہ پالیسی کے پاس حقیقی اسٹریٹجک گنجائش محدود رہتی ہے۔

بطور چیئرمین مکمل پاکستان پارٹی، میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان کو آج عالمی سطح پر غیر ضروری محاذ آرائی کی نہیں بلکہ تعاون پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔

ہمیں کسی ملک کے ساتھ غیر ضروری تنازع نہیں چاہیے۔

ہمیں چاہیے:

امن، تجارت، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی، تعلیم اور ترقی۔

یہی BRICS کے بارے میں ہمارے مثبت نقطۂ نظر کی بنیاد ہے۔

آج دنیا تیزی سے کثیر قطبی نظام کی طرف بڑھ رہی ہے۔

مستقبل کا عالمی نظام ہمیشہ چند ممالک کے ذریعے نہیں چلایا جا سکتا۔

ترقی پذیر ممالک اور گلوبل ساؤتھ کو عالمی معاملات میں زیادہ مؤثر آواز، زیادہ منصفانہ عالمی مالیاتی نظام اور مصنوعی ذہانت، تجارت، توانائی اور عالمی حکمرانی جیسے معاملات میں زیادہ مؤثر کردار کی ضرورت ہے۔

پاکستان اس تاریخی عمل سے خود کو الگ نہیں رکھ سکتا۔

ہمیں عالمی نظام کے تماشائی سے بتدریج اس کے فعال کردار بننے کی طرف بڑھنا ہوگا۔

ہم ہمیشہ دوسروں کے فیصلوں کا انتظار نہیں کر سکتے کہ وہ ہمارے مستقبل کا تعین کریں۔

اپنا مستقبل ہمیں خود بنانا ہوگا۔

یہی مکمل پاکستان پارٹی کا مؤقف ہے:

پاکستان کسی ملک کے خلاف نہیں اور نہ ہی کسی ملک کا محتاج ہے۔

پاکستان دنیا کے تمام ممالک کے ساتھ تعاون کے لیے تیار ہے، لیکن سب سے پہلے پاکستان کے قومی مفاد کو مقدم رکھتا ہے۔

ہم چین کا خیرمقدم کرتے ہیں۔

ہم روس کا خیرمقدم کرتے ہیں۔

ہم امریکہ کا خیرمقدم کرتے ہیں۔

ہم یورپ کا خیرمقدم کرتے ہیں۔

ہم عرب دنیا کا خیرمقدم کرتے ہیں۔

ہم ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ کے ہر اس ملک کے ساتھ تعاون کا خیرمقدم کرتے ہیں جو پاکستان کے ساتھ باہمی احترام اور مشترکہ مفاد کی بنیاد پر آگے بڑھنا چاہتا ہے۔

کیونکہ ہمارا حتمی مقصد صرف ایک ہے:

ایک مکمل، مضبوط، جدید، خودمختار اور دنیا میں باعزت پاکستان کی تعمیر۔

محمد عبدالمتین ہاشمی
چیئرمین مکمل پاکستان پارٹی