بڑی طاقتوں کی کشیدگی کے درمیان پاکستان کو کسی ایک طرف نہیں، اپنے قومی مفاد کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا
دنیا اس وقت ایک ایسے دور سے گزر رہی ہے جس میں بین الاقوامی تعلقات تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں۔ ایک طرف امریکہ اور چین کے درمیان تجارت، ٹیکنالوجی، صنعتی پالیسی اور عالمی اثر و رسوخ کے حوالے سے مقابلہ جاری ہے، دوسری طرف مشرقِ وسطیٰ کے تنازعات نے توانائی، تجارت، سمندری راستوں اور عالمی معیشت کو مزید غیر یقینی بنا دیا ہے۔ حالیہ عالمی تجارتی اعداد و شمار بھی ظاہر کرتے ہیں کہ جغرافیائی سیاست اب عالمی تجارت کے راستوں اور فیصلوں پر پہلے سے کہیں زیادہ اثر ڈال رہی ہے۔ ([World Trade Organization][2])
ایسے ماحول میں پاکستان کے لیے سب سے اہم سوال یہ نہیں ہونا چاہیے کہ امریکہ کے ساتھ کھڑے ہونا ہے یا چین کے ساتھ۔
اصل سوال یہ ہونا چاہیے کہ:
*پاکستان اپنے قومی مفاد، اپنی معیشت، اپنی سلامتی اور اپنے مستقبل کے لیے کس طرح ایسی خارجہ پالیسی اختیار کرے جس میں دنیا کے زیادہ سے زیادہ ممالک پاکستان کے معاشی شراکت دار بنیں؟*
مکمل پاکستان پارٹی سمجھتی ہے کہ پاکستان کو عالمی طاقتوں کی کشمکش میں کسی ایک کیمپ کا حصہ بننے کے بجائے *امن، تجارت، سرمایہ کاری اور باہمی مفاد کی بنیاد پر دنیا کے ساتھ تعلقات قائم کرنے چاہئیں۔*
پاکستان کو انتخاب نہیں، تعلقات بڑھانے چاہئیں
پاکستان کے امریکہ کے ساتھ تاریخی تعلقات ہیں۔
چین پاکستان کا دیرینہ اور اہم دوست اور معاشی شراکت دار ہے۔
یورپی یونین پاکستان کی برآمدات کے لیے انتہائی اہم مارکیٹ ہے اور یورپی یونین کے مطابق وہ پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی منزل ہے۔ ([European External Action Service][3])
برطانیہ پاکستان کے لیے اہم تجارتی اور تاریخی شراکت دار ہے۔
خلیجی ممالک ہمارے لیے تجارت، سرمایہ کاری، توانائی اور روزگار کے اعتبار سے انتہائی اہم ہیں۔
وسطی ایشیا پاکستان کے لیے نئی تجارتی راہداریوں اور توانائی کے امکانات رکھتا ہے۔
روس کے ساتھ بھی تجارت، توانائی، زراعت اور دیگر شعبوں میں تعلقات کے امکانات موجود ہیں۔
اسی طرح افریقہ، جنوب مشرقی ایشیا، ترکی، ایران، وسطی ایشیا اور دنیا کے دیگر خطوں کے ساتھ پاکستان کو اپنے معاشی تعلقات بڑھانے چاہئیں۔
*ہمیں دنیا کو تقسیم کرنے کے بجائے پاکستان کے لیے دنیا کے دروازے کھولنے چاہئیں۔*
## چین اور امریکہ، دونوں کے ساتھ بہتر تعلقات
مکمل پاکستان پارٹی کا مؤقف واضح ہے:
*پاکستان کو چین کے ساتھ اپنے تعلقات مزید مضبوط کرنے چاہئیں، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ پاکستان امریکہ سے اپنے تعلقات کمزور کرے۔*
اسی طرح امریکہ کے ساتھ بہتر تعلقات کا مطلب یہ نہیں ہونا چاہیے کہ پاکستان چین سے دور ہوجائے۔
یہی ایک بالغ اور خودمختار خارجہ پالیسی کا تقاضا ہے۔
پاکستان کو دونوں بڑی طاقتوں سے یہ کہنا چاہیے کہ:
*پاکستان کسی کے خلاف نہیں، پاکستان اپنے حق میں ہے۔*
ہم چین کے ساتھ تجارت، صنعت، انفراسٹرکچر، زراعت، ٹیکنالوجی، AI اور صنعتی تعاون بڑھانا چاہتے ہیں۔
ہم امریکہ کے ساتھ تجارت، تعلیم، ٹیکنالوجی، سرمایہ کاری، زراعت، صحت اور اعلیٰ تعلیم میں تعاون چاہتے ہیں۔
ہم یورپ کے ساتھ برآمدات اور صنعتی تعاون بڑھانا چاہتے ہیں۔
ہم خلیجی ممالک کے ساتھ سرمایہ کاری اور توانائی کے تعلقات مضبوط کرنا چاہتے ہیں۔
ہم وسطی ایشیا کے ساتھ زمینی تجارت اور علاقائی رابطہ بڑھانا چاہتے ہیں۔
یہی پاکستان کے لیے زیادہ محفوظ راستہ ہے۔
## پاکستان کی اصل طاقت تجارت ہونی چاہیے
دنیا کی بڑی طاقتیں صرف فوجی طاقت سے بڑی نہیں بنتیں۔
ان کی اصل طاقت ان کی:
*معیشت، صنعت، ٹیکنالوجی، برآمدات، تعلیم، تحقیق اور انسانی وسائل*
ہیں۔
پاکستان کو بھی اپنی قومی طاقت کا تصور وسیع کرنا ہوگا۔
ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ پاکستان دنیا کو کیا فروخت کرسکتا ہے؟
صرف ٹیکسٹائل نہیں۔
صرف چاول نہیں۔
صرف کھیلوں کا سامان نہیں۔
ہمیں:
IT services،
Software،
Artificial Intelligence،
Engineering،
Pharmaceuticals،
Agricultural technology،
Processed food،
Automotive components،
Medical equipment،
Textiles،
Defence-related lawful manufacturing،
Minerals،
Renewable energy technology
اور جدید صنعتی مصنوعات میں اپنی برآمدات بڑھانی ہوں گی۔
پاکستان کے نوجوان ہماری سب سے بڑی معاشی طاقت ہیں۔ اگر ہم انہیں جدید تعلیم، AI، کمپیوٹر، انجینئرنگ، زبانوں اور عملی ہنر سے لیس کردیں تو پاکستان صرف اشیاء نہیں بلکہ *علم اور خدمات بھی برآمد کرسکتا ہے۔*
ایک ملک، ایک مارکیٹ پر انحصار نہیں
پاکستان کو اپنی برآمدات کے لیے مزید مارکیٹیں تلاش کرنا ہوں گی۔
یہ ضروری ہے کہ اگر کسی ایک ملک، خطے یا مارکیٹ میں سیاسی یا تجارتی تبدیلی آئے تو پاکستان کی پوری معیشت متاثر نہ ہو۔
جولائی 2026 کے اعداد و شمار میں امریکہ، برطانیہ اور چین پاکستان کی نمایاں برآمدی منڈیوں میں شامل رہے۔ یہ خود اس بات کی مثال ہے کہ پاکستان کے بڑے تجارتی تعلقات ایک سے زیادہ سمتوں میں موجود ہیں۔ ([Associated Press of Pakistan][4])
ہمیں اسی diversification کو مزید آگے لے جانا ہوگا۔
پاکستان کو *50 سے زیادہ نہیں بلکہ دنیا کے تقریباً ہر بڑے خطے میں اپنی تجارتی موجودگی* قائم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
جغرافیہ کو معاشی طاقت بنانا ہوگا
پاکستان کا جغرافیائی محل وقوع ہمارے لیے ایک بہت بڑی نعمت ہے۔
پاکستان چین کے قریب ہے۔
وسطی ایشیا کے دروازے پر ہے۔
خلیج کے قریب ہے۔
بحیرہ عرب تک رسائی رکھتا ہے۔
جنوبی ایشیا کے اہم حصے میں واقع ہے۔
لیکن صرف جغرافیہ کافی نہیں۔
ہمیں اپنے جغرافیے کو *معاشی رابطے* میں تبدیل کرنا ہوگا۔
گوادر، کراچی، زمینی راستے، ریلوے، صنعتی زونز، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور سرحدی تجارت کو جدید بنایا جائے۔
پاکستان کو ایسا ملک بننا چاہیے جہاں:
چین کا مال بھی آسکے،
وسطی ایشیا کی تجارت بھی گزرے،
خلیجی سرمایہ بھی آئے،
یورپی سرمایہ کار بھی آئیں،
امریکی کمپنیاں بھی سرمایہ کاری کریں،
اور پاکستانی صنعتکار دنیا بھر میں اپنی مصنوعات فروخت کریں۔
## پاکستان کو عالمی کشمکش سے فائدہ بھی اٹھانا چاہیے
دنیا میں جب بڑی طاقتوں کے درمیان مقابلہ بڑھتا ہے تو بہت سے ممالک کے لیے مشکلات پیدا ہوتی ہیں، لیکن کچھ ممالک اسی صورتحال کو موقع میں تبدیل کرتے ہیں۔
پاکستان کو بھی یہی کرنا ہوگا۔
اگر عالمی کمپنیاں اپنی supply chains متنوع کرنا چاہتی ہیں تو پاکستان کو انہیں اپنی طرف متوجہ کرنا چاہیے۔
اگر کمپنیاں چین کے علاوہ دوسرے ممالک میں پیداوار منتقل کرنا چاہتی ہیں تو پاکستان کو ایک قابلِ اعتماد صنعتی مرکز بننا چاہیے۔
اگر دنیا AI اور نئی ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری بڑھا رہی ہے تو پاکستان کو صرف ٹیکنالوجی خریدنے والا ملک نہیں بلکہ *ٹیکنالوجی تیار کرنے والا ملک* بننا چاہیے۔
یہ کام صرف تقریروں سے نہیں ہوگا۔
اس کے لیے:
بجلی،
امن،
قانون کی حکمرانی،
تیز رفتار عدالتی نظام،
شفاف ٹیکس نظام،
جدید بندرگاہیں،
ریلوے،
ڈیجیٹل انفراسٹرکچر،
ماہر افرادی قوت،
اور مستقل صنعتی پالیسی
ضروری ہوگی۔
پاکستان کی خارجہ پالیسی میں تجارت کو مرکزی مقام دینا ہوگا
مکمل پاکستان پارٹی سمجھتی ہے کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی اور معاشی پالیسی کو ایک دوسرے سے الگ نہیں رکھا جاسکتا۔
ہر سفارت خانہ صرف سفارتی رابطے کا مرکز نہ ہو۔
وہ *پاکستانی تجارت، سرمایہ کاری، تعلیم، ٹیکنالوجی اور برآمدات کا مرکز* بھی بنے۔
دنیا کے اہم دارالحکومتوں میں تعینات پاکستانی سفارت کاروں کے لیے واضح معاشی اہداف ہونے چاہئیں۔
کتنی سرمایہ کاری پاکستان آئی؟
کتنی پاکستانی مصنوعات نئی مارکیٹ میں پہنچیں؟
کتنے کاروباری معاہدے ہوئے؟
کتنی ٹیکنالوجی پاکستان منتقل ہوئی؟
کتنے پاکستانی نوجوانوں کے لیے نئے مواقع پیدا ہوئے؟
یہ سوال بھی سفارت کاری کی کامیابی کا پیمانہ ہونا چاہیے۔
## پاکستان کسی جنگ کا میدان نہیں، تجارت کا پل بنے
ہم دنیا کی بڑی طاقتوں سے کہنا چاہتے ہیں:
پاکستان کسی نئی عالمی محاذ آرائی کا حصہ نہیں بننا چاہتا۔
پاکستان جنگ نہیں، تجارت چاہتا ہے۔
پاکستان تصادم نہیں، تعاون چاہتا ہے۔
پاکستان پابندیاں نہیں، کاروباری مواقع چاہتا ہے۔
پاکستان تقسیم نہیں، رابطہ چاہتا ہے۔
اور پاکستان کسی ملک کے خلاف اپنی سرزمین استعمال نہیں کرنا چاہتا۔
ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان چین، امریکہ، یورپ، روس، عرب دنیا، ایران، وسطی ایشیا، افریقہ اور باقی دنیا کے درمیان *تجارت اور تعاون کا پل* بنے۔
## ہماری پالیسی کا بنیادی اصول
مکمل پاکستان پارٹی کے نزدیک خارجہ پالیسی میں سب سے اہم چیز جذبات نہیں بلکہ *قومی مفاد* ہے۔
دوستی اپنی جگہ۔
تاریخی تعلقات اپنی جگہ۔
ثقافتی رشتے اپنی جگہ۔
لیکن پاکستان کا سب سے بڑا مفاد *پاکستان* ہونا چاہیے۔
ہم ہر اس ملک کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتے ہیں جو پاکستان کے ساتھ عزت، برابری اور باہمی مفاد کی بنیاد پر تعلقات چاہتا ہے۔
ہم کسی ملک کے خلاف بلاوجہ محاذ آرائی کے حق میں نہیں۔
اور ہم کسی بڑی طاقت کے دباؤ میں اپنی قومی خودمختاری قربان کرنے کے بھی حق میں نہیں۔
## پاکستان کو نئی سوچ کی ضرورت ہے
آج کی دنیا میں کامیاب وہی ممالک ہوں گے جو بدلتی ہوئی دنیا کو سمجھ سکیں گے۔
ہمیں پرانی سفارت کاری کے ساتھ نئی معاشی سفارت کاری چاہیے۔
ہمیں روایتی تعلیم کے ساتھ AI چاہیے۔
ہمیں صرف خام مال بیچنے کے بجائے value-added مصنوعات بنانی ہوں گی۔
ہمیں صرف بیرون ملک روزگار تلاش کرنے کے بجائے پاکستان میں روزگار پیدا کرنا ہوگا۔
ہمیں صرف قرض لینے کے بجائے سرمایہ کاری لانی ہوگی۔
ہمیں صرف درآمدات بڑھانے کے بجائے برآمدات بڑھانی ہوں گی۔
اور سب سے بڑھ کر ہمیں اپنے نوجوان کو پاکستان کی سب سے بڑی معاشی طاقت بنانا ہوگا۔
## مکمل پاکستان پارٹی کا مؤقف
آج دنیا میں طاقت کا توازن بدل رہا ہے۔
امریکہ ایک بڑی عالمی طاقت ہے۔
چین تیزی سے بڑھتی ہوئی عالمی معاشی اور تکنیکی طاقت ہے۔
یورپ اپنی معاشی اور اسٹریٹجک سمت کو نئے حالات کے مطابق ڈھال رہا ہے۔
روس، خلیجی ممالک، بھارت، وسطی ایشیا اور دیگر علاقائی طاقتیں بھی اپنی اپنی حکمت عملی بنا رہی ہیں۔
ایسے وقت میں پاکستان کو دوسروں کی حکمت عملی کا حصہ بننے کے بجائے *اپنی حکمت عملی بنانی ہوگی۔*
ہمیں کسی ایک دروازے پر کھڑے ہو کر دنیا کو دیکھنے کے بجائے پاکستان کے لیے دنیا کے تمام دروازے کھولنے ہوں گے۔
*ہم چین کے دوست رہیں، امریکہ سے تجارت کریں، یورپ سے برآمدات بڑھائیں، خلیج سے سرمایہ لائیں، وسطی ایشیا سے تجارت جوڑیں، روس سے اقتصادی تعاون کریں، افریقہ میں نئی منڈیاں تلاش کریں اور دنیا کے ہر ملک کے ساتھ باعزت تعلقات قائم کریں۔*
یہی ایک خودمختار، متوازن اور معاشی طور پر مضبوط پاکستان کی بنیاد بن سکتی ہے۔
پاکستان کو کسی عالمی طاقت کا فریق بننے کی ضرورت نہیں۔
*پاکستان کو خود ایک مضبوط معاشی طاقت بننے کی ضرورت ہے۔*
اور ہماری نظر میں پاکستان کی اصل کامیابی اس دن ہوگی جب دنیا پاکستان سے یہ پوچھے گی کہ:
*”آپ کس کے ساتھ ہیں؟”*
اور پاکستان اعتماد سے جواب دے:
*”ہم پاکستان کے ساتھ ہیں، اور ہم دنیا کے ساتھ تجارت، امن اور باہمی احترام کے لیے کھڑے ہیں۔”*
*محمد عبدالمتین ہاشمی*
*چیئرمین، مکمل پاکستان پارٹی*
0092-313-5000-734
