0092-313-5000-734    
Jobs  |   09 Sep 2026

 SCO اور پاکستان: 2027 کا اسلام آباد، ایک تاریخی امتحان تحریر: محمد عبدالمتین ہاشمی چیئرمین، مکمل پاکستان پارٹی دنیا بدل رہی ہے۔

| 9 Sep 2026  

یہ تبدیلی صرف عالمی طاقتوں کے درمیان کشمکش تک محدود نہیں۔ عالمی معیشت، تجارت، ٹیکنالوجی، توانائی، سلامتی اور سفارت کاری کے نئے مراکز ابھر رہے ہیں۔ ایک ایسا عالمی نظام تشکیل پا رہا ہے جس میں ایشیا اور بالخصوص یوریشیا کا کردار پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو چکا ہے۔

اسی بدلتی ہوئی دنیا میں شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کی اہمیت مسلسل بڑھ رہی ہے۔

اور آج پاکستان ایک ایسے مقام پر کھڑا ہے جہاں اسے صرف حالات کا تماشائی نہیں بلکہ اپنے مستقبل کا فعال معمار بننا ہوگا۔

پاکستان نے ستمبر 2026 سے 2027 تک **SCO Council of Heads of State کی سربراہی سنبھال لی ہے** اور 2027 میں اسلام آباد میں سربراہی اجلاس کی میزبانی کرے گا۔ ([Ministry of Foreign Affairs Pakistan][1])

میرے نزدیک یہ محض ایک سفارتی اعزاز نہیں۔

**یہ پاکستان کے لیے ایک تاریخی امتحان ہے۔**

سوال یہ نہیں کہ SCO پاکستان کو کیا دے گا

ہماری قومی سوچ کا ایک بڑا مسئلہ یہ رہا ہے کہ ہم اکثر عالمی اور علاقائی فورمز کو اس سوال سے دیکھتے ہیں کہ:

“ہمیں اس سے کیا ملے گا؟”

اب وقت آ گیا ہے کہ سوال تبدیل کیا جائے۔

**پاکستان SCO اور خطے کو کیا دے سکتا ہے؟**

پاکستان کے پاس ایک ایسا جغرافیہ ہے جس کی اہمیت آنے والے برسوں میں مزید بڑھ سکتی ہے۔

ایک طرف چین ہے، دوسری طرف وسطی ایشیا، شمال میں افغانستان، مغرب میں ایران، جنوب میں بحیرہ عرب اور اس کے ذریعے عالمی سمندری راستے۔

گوادر اور کراچی سے لے کر وسطی ایشیا تک، پاکستان ایک ایسا تجارتی اور رابطہ جاتی پل بن سکتا ہے جو کئی خطوں کو آپس میں جوڑ دے۔

لیکن صرف جغرافیہ کافی نہیں۔

جغرافیہ کو حکمت عملی، انفراسٹرکچر، امن، سیاسی استحکام اور معاشی پالیسی میں تبدیل کرنا ہوگا۔

پاکستان کو “گیٹ وے” بننا ہوگا

مکمل پاکستان پارٹی سمجھتی ہے کہ پاکستان کو SCO کے اندر اپنے لیے ایک واضح کردار متعین کرنا چاہیے:

**Pakistan as a Gateway to Eurasia**

پاکستان چین، وسطی ایشیا، ایران، روس اور بحیرہ عرب کے درمیان تجارت اور رابطے کا اہم مرکز بن سکتا ہے۔

ہمیں ریلوے، سڑکوں، بندرگاہوں، بارڈر ٹرمینلز، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور کسٹمز نظام کو اس انداز میں جدید بنانا ہوگا کہ ایک کاروباری شخص کے لیے کراچی یا گوادر سے وسطی ایشیا تک تجارت کرنا آسان ہو۔

اگر ہم ایسا کر سکے تو پاکستان صرف راستہ نہیں ہوگا۔

**پاکستان خود ایک معاشی مرکز بن جائے گا۔**

SCO کو صرف سیکیورٹی کے چشمے سے نہ دیکھا جائے

SCO کا دائرہ صرف سلامتی اور دہشت گردی تک محدود نہیں۔ تنظیم علاقائی امن، معاشی تعاون، رابطہ کاری، سائنس و ٹیکنالوجی اور عوامی روابط جیسے شعبوں میں بھی تعاون کا پلیٹ فارم ہے۔ پاکستان بھی 2017 سے اس کا مکمل رکن ہے۔ ([Ministry of Foreign Affairs Pakistan][2])

اسی لیے پاکستان کو اپنی سربراہی کے دوران صرف سیکیورٹی اجلاسوں تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔

ہمیں ایک نیا ایجنڈا دینا چاہیے:

**تجارت، ٹیکنالوجی، توانائی، تعلیم، مصنوعی ذہانت، نوجوان، صحت اور رابطہ کاری۔**

یہ وہ شعبے ہیں جو آنے والی نسلوں کا مستقبل طے کریں گے۔

مصنوعی ذہانت: پاکستان کا سب سے بڑا موقع

دنیا Artificial Intelligence کی طرف تیزی سے بڑھ رہی ہے۔

چین، امریکہ، یورپ اور دیگر ممالک AI کو معیشت، دفاع، تعلیم، صحت اور صنعت میں استعمال کر رہے ہیں۔

پاکستان کو SCO کے اندر **AI Cooperation Initiative** پیش کرنی چاہیے۔

پاکستان میں SCO ممالک کے طلبہ کے لیے مشترکہ AI پروگرام بنائے جائیں۔

چین، روس، وسطی ایشیا اور دیگر رکن ممالک کی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو پاکستان میں تحقیق اور سرمایہ کاری کے لیے مدعو کیا جائے۔

اسلام آباد میں ایک **SCO AI and Innovation Centre** قائم کیا جا سکتا ہے۔

یہ مرکز نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی، روبوٹکس، سائبر سیکیورٹی، ڈیٹا سائنس اور مصنوعی ذہانت کی تربیت دے سکتا ہے۔

اگر ہم نے آج کے نوجوان کو AI کی معیشت سے نہیں جوڑا تو کل ہم عالمی معیشت کے صرف صارف رہ جائیں گے۔

ہمیں صارف نہیں، تخلیق کار اور برآمد کنندہ بننا ہے۔

وسطی ایشیا کے دروازے پاکستان کے لیے کھولنے ہوں گے

پاکستان کی خارجہ پالیسی میں وسطی ایشیا کو وہ اہمیت نہیں ملی جو اس کے جغرافیائی اور معاشی امکانات کے لحاظ سے ملنی چاہیے تھی۔

قازقستان، ازبکستان، تاجکستان، کرغزستان اور دیگر وسطی ایشیائی ممالک پاکستان کے لیے بڑے معاشی امکانات رکھتے ہیں۔

پاکستان ان ممالک کے لیے سمندر تک رسائی کا اہم راستہ بن سکتا ہے۔

لیکن اس کے لیے ہمیں صرف سفارتی ملاقاتیں نہیں بلکہ عملی تجارتی راستے بنانے ہوں گے۔

ریل آئے۔

ٹرک آئے۔

کارگو بڑھے۔

بینکنگ آسان ہو۔

بارڈر کلیئرنس تیز ہو۔

اور سرمایہ کار کو یہ یقین ہو کہ پاکستان میں اس کا سرمایہ محفوظ اور منافع بخش ہوگا۔

تب ہی جغرافیہ معاشی طاقت میں تبدیل ہوگا۔

افغانستان کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا

SCO کے تناظر میں افغانستان پاکستان کے لیے ایک انتہائی اہم مسئلہ ہے۔

افغانستان میں امن پاکستان کے لیے صرف ایک خارجہ پالیسی کا مسئلہ نہیں۔

یہ ہماری تجارت، سلامتی، وسطی ایشیا سے رابطے اور معاشی مستقبل سے براہ راست جڑا ہوا ہے۔

پاکستان کو SCO کے اندر افغانستان کے لیے ایک ایسا علاقائی فریم ورک تشکیل دینے کی کوشش کرنی چاہیے جس میں امن، تجارت، انسانی بہبود، انسداد دہشت گردی اور علاقائی رابطہ کاری شامل ہو۔

**ہمیں افغانستان کو صرف سیکیورٹی کے مسئلے کے طور پر نہیں بلکہ علاقائی رابطے کے حصے کے طور پر دیکھنا ہوگا۔**

دہشت گردی کے خلاف دوہرا معیار نہیں ہونا چاہیے

پاکستان دہشت گردی کے خلاف بے شمار قربانیاں دے چکا ہے۔

اس لیے پاکستان کو SCO کے پلیٹ فارم پر یہ اصول مضبوطی سے پیش کرنا چاہیے کہ دہشت گردی جہاں سے بھی آئے، جس کے خلاف بھی ہو، اس کی مذمت یکساں ہونی چاہیے۔

2026 کے بشکیک اعلامیے میں بھی دہشت گردی کے خلاف دوہرے معیار کو ناقابل قبول قرار دیا گیا اور بین الاقوامی تعاون پر زور دیا گیا۔

پاکستان کو اس موقع پر ایک جامع علاقائی نظام کی حمایت کرنی چاہیے جس میں:

* انٹیلی جنس تعاون
* سرحدی سیکیورٹی
* سائبر دہشت گردی کے خلاف کارروائی
* منشیات کی اسمگلنگ کی روک تھام
* دہشت گردی کی مالی معاونت کے خلاف اقدامات
* نوجوانوں کو انتہاپسندی سے محفوظ رکھنے کے پروگرام

شامل ہوں۔

پاکستان کو کسی کیمپ کا حصہ نہیں بننا چاہیے

مکمل پاکستان پارٹی کی خارجہ پالیسی کا ایک بنیادی اصول واضح ہے:

**پاکستان کو کسی عالمی طاقت کے خلاف دوسری طاقت کا آلہ نہیں بننا چاہیے۔**

چین پاکستان کا دیرینہ دوست ہے۔

روس کے ساتھ ہمارے تعلقات میں نئے امکانات پیدا ہو رہے ہیں۔

وسطی ایشیا ہمارے قدرتی معاشی شراکت دار بن سکتے ہیں۔

ایران ہمارا ہمسایہ ہے۔

عرب دنیا سے ہمارے تاریخی اور برادرانہ تعلقات ہیں۔

اور مغربی دنیا کے ساتھ بھی پاکستان کے معاشی، تعلیمی اور سفارتی تعلقات ہیں۔

ہمیں کسی ایک بلاک کا حصہ بننے کے بجائے **پاکستانی مفاد کا مرکز** بننا چاہیے۔

ہم دوستیاں سب سے رکھیں، دشمنیاں کسی سے نہ چاہیں، لیکن قومی مفاد پر سمجھوتہ بھی نہ کریں۔

## 2027 کا اسلام آباد

اب اصل امتحان 2027 میں ہوگا۔

جب دنیا کے اہم ممالک کے سربراہان اسلام آباد آئیں گے تو دنیا صرف ایک کانفرنس نہیں دیکھے گی۔

دنیا پاکستان کو دیکھے گی۔

وہ دیکھے گی کہ پاکستان کتنا محفوظ ہے۔

کتنا منظم ہے۔

کتنا جدید ہے۔

کتنا پرامن ہے۔

اور سب سے بڑھ کر یہ کہ پاکستان مستقبل کے بارے میں کیا سوچتا ہے۔

اسی لیے 2027 کا SCO Summit صرف وزارتِ خارجہ کا پروگرام نہیں ہونا چاہیے۔

یہ **National Project** ہونا چاہیے۔

اس کے لیے حکومت، پارلیمنٹ، کاروباری برادری، جامعات، نوجوان، ٹیکنالوجی ماہرین اور سول سوسائٹی سب کو شامل کیا جانا چاہیے۔

مکمل پاکستان پارٹی کی تجویز: “اسلام آباد وژن 2027”

ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ پاکستان کی SCO صدارت کے لیے ایک جامع:

Islamabad Vision 2027

تیار کیا جائے۔

اس کے پانچ بنیادی ستون ہوں:

**اول: Regional Connectivity**
پاکستان کو یوریشیا کا تجارتی اور ٹرانزٹ مرکز بنانا۔

**دوم: Economic Cooperation**
SCO ممالک کے ساتھ تجارت، سرمایہ کاری اور صنعتی تعاون میں اضافہ۔

**سوم: Innovation & AI**
مصنوعی ذہانت، سائبر سیکیورٹی، تعلیم اور جدید ٹیکنالوجی میں مشترکہ پروگرام۔

**چہارم: Peace & Security**
دہشت گردی، انتہاپسندی، منشیات اور سرحد پار جرائم کے خلاف مشترکہ حکمت عملی۔

**پنجم: People-to-People Diplomacy**
طلبہ، محققین، نوجوانوں، فنکاروں، کھلاڑیوں اور کاروباری افراد کے درمیان روابط۔

پاکستان کی اعلان کردہ SCO ترجیح بھی **”Turning Vision into Action: Connectivity, Innovation and Shared Prosperity”** ہے۔ اصل چیلنج اب یہی ہے کہ یہ الفاظ عملی منصوبوں میں تبدیل ہوں۔ ([NA.gov.pk][4])

پاکستان کو اپنی سوچ بدلنی ہوگی

ہم گزشتہ کئی دہائیوں سے سیاسی اختلافات، معاشی بحرانوں اور داخلی مسائل میں الجھے رہے ہیں۔

اب ہمیں اپنی قومی سوچ کو اگلے پچاس سال کے لیے ترتیب دینا ہوگا۔

ہمیں یہ طے کرنا ہوگا کہ پاکستان 2030 میں کہاں ہوگا؟

2040 میں کہاں ہوگا؟

اور 2050 میں دنیا کے نقشے پر اس کا مقام کیا ہوگا؟

SCO کی سربراہی ہمیں یہ موقع دے رہی ہے کہ ہم اپنی خارجہ پالیسی کو معاشی ترقی کے ساتھ جوڑیں۔

خارجہ پالیسی صرف سفارتی بیانات کا نام نہیں۔

خارجہ پالیسی کا مقصد پاکستان کے نوجوان کے لیے روزگار، پاکستان کے صنعت کار کے لیے مارکیٹ، پاکستان کے کسان کے لیے نئی منڈی اور پاکستان کے سرمایہ کار کے لیے نئے مواقع پیدا کرنا بھی ہونا چاہیے۔

ہمارا پاکستان، ہمارا مستقبل

مکمل پاکستان پارٹی کا تصور ایک ایسے پاکستان کا ہے جو اپنی تاریخ سے سبق لے، اپنی غلطیوں کو تسلیم کرے اور مستقبل کی طرف اعتماد کے ساتھ بڑھے۔

ہم ایسا پاکستان چاہتے ہیں جو جنگوں کا میدان نہ ہو۔

جو دوسروں کی لڑائیوں میں استعمال نہ ہو۔

جو امداد کا محتاج نہ ہو۔

جو صرف قرض لینے والا ملک نہ ہو۔

بلکہ ایسا پاکستان ہو جو:

امن دے، تجارت دے، ٹیکنالوجی دے، علم دے اور خطے کو جوڑنے والا ملک بنے۔

SCO ہمارے لیے یہی موقع لے کر آیا ہے۔

2027 میں اسلام آباد دنیا کے سامنے ہوگا۔

اب فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے۔

ہم صرف ایک سربراہی اجلاس کی میزبانی کریں گے یا ایک مکمل پاکستان کی سمت کا اعلان بھی کریں گے؟

مکمل پاکستان پارٹی کا جواب واضح ہے:

**پاکستان کو صرف SCO کی صدارت نہیں کرنی چاہیے، پاکستان کو اس موقع سے اپنی نئی قومی سمت متعین کرنی چاہیے۔**

ہمیں پاکستان کو خطے کا مسئلہ نہیں، **خطے کا حل** بنانا ہے۔

ہمیں پاکستان کو عالمی سیاست کا محاذ نہیں، **امن، تجارت، علم اور ترقی کا مرکز** بنانا ہے۔

اور ہمیں آج سے اس پاکستان کی بنیاد رکھنی ہوگی جس کا خواب ہمارے بزرگوں نے دیکھا تھا۔

**ایمان،  اتحاد، تنظیم اور عدل میں مستقبل ہمارا۔**

محمد عبدالمتین ہاشمی

**چیئرمین، مکمل پاکستان پارٹی**