0092-313-5000-734    
Jobs  |   19 Oct 2026

روپیہ کمزور، عوام بے بس — آخر ہماری معیشت کا رخ کس طرف ہے؟

| 19 Oct 2026  

کبھی ایک لاکھ روپے انسان کے کئی خواب پورے کرنے کی امید بن سکتے تھے، مگر آج اسی رقم سے ضروریاتِ زندگی پوری کرنا بھی بہت سے خاندانوں کے لیے ایک مشکل امتحان بنتا جا رہا ہے۔ سوال صرف روپے کی قدر گرنے کا نہیں، سوال اس محنت، پسینے اور امید کا ہے جس کے سہارے ایک عام پاکستانی اپنا گھر چلاتا ہے۔

ایک مزدور دن بھر محنت کرتا ہے، ایک ملازم پورا مہینہ اپنی ذمہ داریاں نبھاتا ہے اور ایک چھوٹا کاروباری شخص اپنا سرمایہ خطرے میں ڈالتا ہے، لیکن جب آمدن کے مقابلے میں اخراجات تیزی سے بڑھتے ہیں تو ان سب کی محنت کا حقیقی فائدہ محدود ہونے لگتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں مہنگائی محض معاشی اصطلاح نہیں رہتی بلکہ قومی زندگی کا ایک سنگین مسئلہ بن جاتی ہے۔

آخر روپے کی قوتِ خرید کیوں گھٹ رہی ہے؟

روپے کی قوتِ خرید میں کمی کا بنیادی مطلب یہ ہے کہ ایک ہی رقم سے وقت گزرنے کے ساتھ کم اشیا اور خدمات حاصل ہوتی ہیں۔ اسے صرف ڈالر کی قیمت سے نہیں سمجھا جا سکتا، کیونکہ ملکی کرنسی کی شرحِ تبادلہ اور اندرونِ ملک مہنگائی دو مختلف، اگرچہ باہم مربوط، معاملات ہیں۔

پاکستان میں قیمتوں پر دباؤ کی متعدد وجوہات ہیں۔ توانائی اور ایندھن کی بلند لاگت، درآمدی اشیا اور خام مال پر انحصار، روپے کی شرحِ تبادلہ میں اتار چڑھاؤ، حکومتی مالی خسارہ، قرضوں کی ادائیگیاں اور مقامی پیداوار کی کمزوری ان میں شامل ہیں۔ جب کاروبار کے اخراجات بڑھتے ہیں تو اس کا اثر اشیا کی قیمتوں پر پڑتا ہے، جبکہ کمزور قوتِ خرید کاروباری سرگرمیوں اور نئی سرمایہ کاری کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔

مسئلہ اس وقت مزید پیچیدہ ہو جاتا ہے جب معیشت میں اشیا اور خدمات کی پیداوار، روزگار کے مواقع اور عوام کی حقیقی آمدن ایک دوسرے کے ساتھ متوازن رفتار سے ترقی نہ کریں۔

مہنگائی کی قیمت کون ادا کرتا ہے؟

مہنگائی کا بوجھ سب پر یکساں نہیں پڑتا۔ زیادہ آمدن رکھنے والے افراد بعض اضافی اخراجات برداشت کر سکتے ہیں، لیکن محدود آمدن والے خاندانوں کے لیے آٹے، دال، بجلی، گیس، کرایے، علاج اور تعلیم کے اخراجات میں اضافہ پورے ماہانہ بجٹ کو متاثر کر سکتا ہے۔

جب گھر کا بجٹ صرف بنیادی ضروریات تک محدود ہو جائے تو بچوں کی تعلیم، علاج، بچت اور بہتر مستقبل کی منصوبہ بندی پیچھے رہ جاتی ہے۔ اس کے نتیجے میں معاشی مشکلات صرف موجودہ زندگی کو نہیں بلکہ اگلی نسل کے امکانات کو بھی متاثر کر سکتی ہیں۔

اس لیے مہنگائی پر قابو پانا محض قیمتیں کم کرنے کا معاملہ نہیں؛ یہ عوام کے معیارِ زندگی، معاشرتی انصاف اور قومی ترقی کا سوال بھی ہے۔

کیا اس مسئلے کا حل ممکن ہے؟

یقیناً، لیکن اس کے لیے وقتی اقدامات کے ساتھ مستقل معاشی اصلاحات بھی ضروری ہیں۔

سب سے پہلے حکومت کو مالیاتی نظم و ضبط بہتر بنانا، غیر ضروری اخراجات کم کرنا، ٹیکس نظام کو منصفانہ بنانا اور عوامی وسائل کے استعمال میں شفافیت یقینی بنانی چاہیے۔ مالیاتی پالیسی کو بھی مہنگائی کے دباؤ کے مطابق مؤثر انداز میں استعمال کرنا ہوگا، جبکہ کم آمدن والے خاندانوں کے لیے ہدفی ریلیف کا انتظام ضروری ہے۔

دوسرا اہم قدم مقامی پیداوار میں اضافہ ہے۔ پاکستان کو اپنی زرعی صلاحیت، صنعتی استعداد اور چھوٹے کاروباروں کو مضبوط بنانا ہوگا۔ جب ملک اپنی ضروریات کی زیادہ اشیا مقامی طور پر پیدا کرنے کے قابل ہوگا تو بعض درآمدی دباؤ کم کرنے اور روزگار کے مواقع بڑھانے میں مدد مل سکتی ہے۔ تاہم اس مقصد کے لیے سرمایہ کاری، جدید ٹیکنالوجی، بہتر انتظام، مسابقت اور مناسب تجارتی پالیسی بھی ضروری ہیں۔

تیسرا قدم نوجوانوں کو محض ملازمت کے منتظر رکھنے کے بجائے انہیں ہنر، کاروباری تربیت اور عملی مواقع فراہم کرنا ہے۔ ایک ایسا نوجوان جو اپنا چھوٹا کاروبار شروع کر سکے، دوسروں کے لیے روزگار پیدا کر سکے اور ملکی پیداوار میں حصہ ڈال سکے، قومی معیشت کے لیے ایک قیمتی اثاثہ ہے۔

اسی طرح چھوٹے تاجروں اور صنعت کاروں کو غیر ضروری دفتری پیچیدگیوں، غیر یقینی پالیسیوں اور کاروباری رکاوٹوں سے نجات دینا ہوگی تاکہ سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھے اور کاروباری سرگرمیوں کو فروغ ملے۔

مکمل پاکستان کا تصور: معیشت عوام کے لیے

مکمل پاکستان پارٹی اس بات پر زور دیتی ہے کہ قومی ترقی کا مقصد صرف معاشی اعداد و شمار میں بہتری نہیں بلکہ عام شہری کی زندگی میں حقیقی آسانی پیدا کرنا ہونا چاہیے۔ ایسی معیشت کی ضرورت ہے جہاں محنت کرنے والے کو اپنی محنت کا مناسب صلہ ملے، کاروبار کرنے والے کو ترقی کے مواقع حاصل ہوں، نوجوان اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا سکیں اور عوام کی بنیادی ضروریات قابلِ برداشت رہیں۔

بااختیار مقامی حکومتیں، وسائل کی منصفانہ تقسیم، کاروباری سرگرمیوں کا فروغ اور تعلیم کو عملی ہنر سے جوڑنا اس سمت میں مددگار اقدامات ہو سکتے ہیں۔ ان اصلاحات کے ساتھ قومی سطح پر مالیاتی استحکام اور مستقل پالیسیوں کو بھی یقینی بنانا ہوگا۔

ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ کرنسی کی مضبوطی محض اعلان سے نہیں آتی۔ اس کے پیچھے پیداواری صلاحیت، عوام کا اعتماد، مالیاتی نظم، مؤثر ادارے اور پائیدار معاشی سرگرمیاں ہوتی ہیں۔

اصل کامیابی کیا ہوگی؟

اصل کامیابی یہ نہیں کہ ہم صرف روپے کی قیمت کے بارے میں بحث کرتے رہیں، بلکہ یہ ہے کہ ایک عام پاکستانی اپنی آمدن سے گھر چلا سکے، اپنے بچوں کو تعلیم دلا سکے، علاج کروا سکے اور مستقبل کے لیے کچھ بچا بھی سکے۔

پاکستان کو ایسی معاشی سمت کی ضرورت ہے جس میں وقتی ریلیف کے ساتھ دیرپا اصلاحات بھی ہوں، کاروبار کے ساتھ روزگار بھی بڑھے اور معاشی ترقی کے ثمرات عام شہری تک پہنچیں۔

**کیونکہ مضبوط پاکستان کی بنیاد صرف مضبوط کرنسی نہیں، بلکہ مضبوط عوام، باعزت روزگار، زیادہ پیداوار اور منصفانہ معاشی مواقع ہیں۔**

محمد عبدالمتین ہاشمی
چیئرمین، مکمل پاکستان پارٹی