مکمل پاکستان پارٹی کے چیئرمین محمد عبدالمتین ہاشمی صاحب نے پاک–افغان سرحد پر حالیہ بلااشتعال فائرنگ اور کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی برادر اسلامی ملک کی جانب سے سرحدی خلاف ورزی یا اشتعال انگیزی نہ صرف علاقائی امن کے لیے خطرہ ہے بلکہ دونوں ممالک کے عوام کے مفاد کے بھی خلاف ہے۔
انہوں نے کہا کہ باجوڑ، خیبر اور دیگر سرحدی سیکٹرز میں فائرنگ کے تبادلے کی اطلاعات افسوسناک ہیں۔ پاکستان نے ہمیشہ افغانستان کے ساتھ برادرانہ تعلقات، تجارت اور امن کی پالیسی اپنائی ہے، اس کے باوجود اگر کسی جانب سے بلا جواز کارروائی کی جاتی ہے تو پاکستان کو اپنی سرحدوں کے دفاع کا مکمل حق حاصل ہے۔
چئرمین محمد عبدالمتین ہاشمی نے پاک فوج اور دیگر سکیورٹی اداروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہماری افواج ملکی خودمختاری، سرحدی سلامتی اور قومی وقار کے تحفظ کے لیے ہر وقت تیار ہیں۔ ہم اپنے دفاعی اداروں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مسلمان ممالک کو ایک دوسرے کے خلاف محاذ آرائی کے بجائے اتحاد، باہمی احترام اور سفارتی مکالمے کو فروغ دینا چاہیے۔ خطے میں کشیدگی سے صرف دشمن عناصر کو فائدہ پہنچتا ہے جبکہ نقصان عام شہریوں اور معیشت کو ہوتا ہے۔ کسی بھی قسم کی جنگ یا تصادم نہ افغانستان کے مفاد میں ہے اور نہ پاکستان کے۔
چیئرمین مکمل پاکستان پارٹی محمد عبدالمتین ہاشمی صاحب نے زور دیا کہ دونوں ممالک کی قیادت کو فوری طور پر کشیدگی کم کرنے، سرحدی رابطہ نظام کو فعال بنانے اور غلط فہمیوں کے خاتمے کے لیے سفارتی سطح پر اقدامات کرنے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان امن کا خواہاں ہے، لیکن اپنی خودمختاری اور دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ قومی اتحاد، داخلی استحکام اور ذمہ دارانہ طرزِ سیاست ہی اس نازک وقت میں ہماری اصل طاقت ہے۔ ہمیں اشتعال انگیز بیانیوں کے بجائے دانشمندی، صبر اور حکمت کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔

0092-313-5000-734
