0092-313-5000-734    
Jobs  |   15 Sep 2026

پاکستان کو نعروں کی نہیں، حل کی سیاست چاہیے تحریر: محمد عبدالمتین ہاشمی، چیرمین مکمل پاکستان پارٹی

| 15 Sep 2026  

پاکستان آج جس صورتحال سے گزر رہا ہے، اسے صرف سیاسی بحران کہنا کافی نہیں۔ یہ دراصل **عوامی اعتماد، قومی ترجیحات اور سیاسی منصوبہ بندی کا بحران** ہے۔ سب سے بڑا سوال یہ نہیں کہ اقتدار میں کون ہے اور کون اقتدار سے باہر ہے، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ عوام کہاں کھڑی ہے اور اس کے مسائل کون حل کرے گا؟

ہماری سیاسی تاریخ کئی دہائیوں پر محیط ہے۔ اس دوران مختلف سیاسی جماعتیں اقتدار میں آئیں، حکومتیں بنیں، حکومتیں ختم ہوئیں، منشور پیش ہوئے، جلسے ہوئے، نعرے لگے اور عوام سے بڑے بڑے وعدے کیے گئے۔ لیکن آج بھی ایک عام پاکستانی کے بنیادی سوال وہی ہیں: روزگار کہاں ہے؟ معیاری تعلیم کہاں ہے؟ بہتر صحت کی سہولت کہاں ہے؟ سستا اور قابلِ اعتماد انصاف کہاں ہے؟ مہنگائی سے نجات کیسے ملے گی؟ بجلی، پانی، گیس اور دیگر بنیادی سہولیات کب عام آدمی کی دسترس میں ہوں گی؟

یہ سوال اب صرف غریب کا نہیں رہا۔ یہ پاکستان کے ہر طبقے کا سوال بن چکا ہے۔

**اصل المیہ یہ ہے کہ ہمارے سیاسی اور مذہبی حلقوں میں عوام کے مسائل کے حل کے لیے مطلوبہ وقت، سرمایہ اور جامع منصوبہ بندی کا فقدان نظر آتا ہے۔** بہت سے لوگ عوام کے مسائل پر بات ضرور کرتے ہیں، مگر مسئلے کے مستقل حل کے لیے کتنے وسائل درکار ہوں گے، کون سا ادارہ کیا ذمہ داری ادا کرے گا، کتنے عرصے میں نتیجہ حاصل ہوگا اور اس پورے عمل کی نگرانی کون کرے گا، اس پر سنجیدہ قومی بحث بہت کم دکھائی دیتی ہے۔

سیاست اگر صرف تقریر، جلسے، نعرے اور انتخابات کا نام رہ جائے تو پھر عوام کے مسائل کب حل ہوں گے؟

ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ **ریاستیں نعروں سے نہیں، نظام اور منصوبہ بندی سے چلتی ہیں۔** قومیں صرف جذبات سے ترقی نہیں کرتیں بلکہ تعلیم، معیشت، صنعت، صحت، انصاف، ٹیکنالوجی، زراعت اور روزگار کے لیے طویل المدتی منصوبے بناتی ہیں اور پھر ان پر مسلسل عمل کرتی ہیں۔

یہاں ایک اور خطرناک پہلو بھی ہے۔ جب عوام مسلسل اپنے مسائل کے حل کے لیے دروازے کھٹکھٹاتی ہے اور اسے عملی جواب نہیں ملتا تو اس کا اعتماد کمزور ہوتا ہے۔ جب نوجوان کو تعلیم کے بعد روزگار نہ ملے، جب کاروباری شخص غیر یقینی صورتحال میں مبتلا ہو، جب عام شہری مہنگائی کے بوجھ تلے دب جائے اور جب ایک غریب آدمی اپنے بنیادی حقوق کے لیے بھی برسوں انتظار کرے تو مسئلہ صرف معاشی نہیں رہتا۔ **یہ پورے نظام پر اعتماد کا مسئلہ بن جاتا ہے۔**

اور جب عوام کا اعتماد نظام سے اٹھنا شروع ہو جائے تو یہ کسی بھی قوم کے لیے انتہائی خطرناک مرحلہ ہوتا ہے۔

ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ پاکستان کو مزید وقتی سیاسی مفادات کے مطابق چلانا ہے یا اسے ایک **منظم، منصوبہ بند اور مستقبل پر مبنی ریاست** بنانا ہے۔

مکمل پاکستان پارٹی کا مؤقف واضح ہے کہ پاکستان کے مسائل کا حل کسی ایک شخصیت، ایک حکومت یا ایک جماعت کے پاس نہیں۔ لیکن ایک سنجیدہ سیاسی جماعت کا فرض ضرور ہے کہ وہ مسئلے کی نشاندہی کرنے کے ساتھ ساتھ **قابلِ عمل حل بھی پیش کرے۔**

ہمیں ایسی سیاست چاہیے جو صرف یہ نہ کہے کہ مہنگائی ختم کریں گے، بلکہ یہ بتائے کہ مہنگائی کیوں پیدا ہوتی ہے اور اسے ختم کرنے کا معاشی طریقہ کیا ہوگا۔

ہمیں ایسی سیاست چاہیے جو صرف یہ نہ کہے کہ روزگار دیں گے، بلکہ یہ بتائے کہ صنعت کیسے بڑھے گی، سرمایہ کاری کیسے آئے گی، نوجوانوں کو کون سی مہارتیں دی جائیں گی اور کتنی نئی ملازمتیں پیدا کی جائیں گی۔

ہمیں ایسی سیاست چاہیے جو صرف تعلیم کے بجٹ کی بات نہ کرے بلکہ یہ طے کرے کہ پاکستان کے ہر بچے کو جدید تعلیم، ٹیکنالوجی، سائنس اور ہنر تک رسائی کیسے دی جائے گی۔

**پاکستان کو اب وعدوں سے زیادہ منصوبوں کی ضرورت ہے۔**

یہ وقت ایک دوسرے پر الزام لگانے کا نہیں بلکہ قومی مسائل کی ذمہ داری قبول کرنے کا ہے۔ اگر ہر سیاسی جماعت صرف یہ ثابت کرنے میں مصروف رہے کہ دوسرا ناکام ہے تو عوام کے مسائل پھر بھی حل نہیں ہوں گے۔ قوم کو یہ بتانا ہوگا کہ **ہم کیا کریں گے، کیسے کریں گے اور کب تک کریں گے۔**

مکمل پاکستان پارٹی سمجھتی ہے کہ پاکستان کے مستقبل کی سیاست کا مرکز **عوام** ہونی چاہیے۔ اقتدار مقصد نہیں بلکہ عوام کی خدمت کا ذریعہ ہونا چاہیے۔ سیاست کا اصل امتحان پارلیمنٹ کی نشست نہیں بلکہ اس بات سے ہونا چاہیے کہ عام پاکستانی کی زندگی میں کیا بہتری آئی۔

آج ہمیں اپنے سیاسی رویوں پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔ اگر ہم نے عوام کے حقیقی مسائل کو مزید نظر انداز کیا، اگر ہم نے قومی وسائل کو ترجیحات کے بغیر استعمال کیا، اگر ہم نے طویل المدتی منصوبہ بندی سے گریز کیا اور اگر سیاست کو صرف اقتدار کی جنگ بنا دیا تو نقصان کسی ایک جماعت کا نہیں ہوگا، **پاکستان کا ہوگا۔**

یہی وجہ ہے کہ میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان کو ایک نئی سیاسی سوچ کی ضرورت ہے۔ ایسی سوچ جو ماضی کی غلطیوں سے سبق لے، حال کے مسائل کو سمجھے اور مستقبل کے لیے واضح راستہ بنائے۔

**پاکستان کو اب صرف حکومت تبدیل کرنے کی نہیں، نظامِ حکمرانی کی ترجیحات تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔**

ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم آنے والی نسلوں کو بھی وہی مسائل منتقل کریں گے جو ہمیں ورثے میں ملے، یا اب واقعی ایک ایسا پاکستان بنائیں گے جہاں ریاست کا ہر فیصلہ عوامی فلاح، قومی ترقی اور آنے والی نسلوں کے مستقبل کو سامنے رکھ کر کیا جائے۔

میرا یقین ہے کہ **پاکستان کے پاس وسائل بھی ہیں، نوجوان بھی ہیں، صلاحیت بھی ہے اور دنیا میں ایک باوقار مقام حاصل کرنے کی پوری استعداد بھی ہے۔ کمی صرف ایک چیز کی ہے: درست سمت، مستقل مزاجی اور عملی منصوبہ بندی۔**

اب وقت آگیا ہے کہ سیاست کو نعروں سے نکال کر **حل کی سیاست** بنایا جائے۔

کیونکہ عوام کو یہ جاننے کا حق ہے کہ ان کے مسائل کون حل کرے گا، کیسے حل کرے گا اور کب حل کرے گا۔

**پاکستان کو اب وعدے نہیں، نتائج چاہییں۔
پاکستان کو اب نعرے نہیں، منصوبہ چاہیے۔
اور پاکستان کو ایسی قیادت چاہیے جو عوام کے مسائل کو اپنا مسئلہ سمجھے۔**

**محمد عبدالمتین ہاشمی**
**چیرمین، مکمل پاکستان پارٹی