0092-313-5000-734    
Jobs  |   14 Sep 2026

پاکستان کو مزید نعروں کی نہیں، ایک مکمل نظام کی ضرورت ہے تحریر: محمد عبدالمتین ہاشمی چیئرمین، مکمل پاکستان پارٹی

| 14 Sep 2026  

پاکستان آج جس مقام پر کھڑا ہے، وہاں سب سے بڑا سوال یہ نہیں کہ مسئلہ کیا ہے؟
مسئلہ تو ہر پاکستانی جانتا ہے۔

مہنگائی ہے، بے روزگاری ہے، بجلی اور گیس کا بحران ہے، تعلیم کے مسائل ہیں، صحت کی سہولیات ناکافی ہیں، انصاف میں تاخیر ہے، صنعت مشکلات کا شکار ہے، زراعت دباؤ میں ہے، اداروں پر عوام کا اعتماد کمزور ہے اور نوجوان اپنے مستقبل کے بارے میں سوالات اٹھا رہے ہیں۔

اصل سوال یہ ہے:

پاکستان کے یہ مسائل ختم کیوں نہیں ہو رہے؟

اور اس سے بھی بڑا سوال یہ ہے:

آخر پاکستان کو چلایا کیسے جائے؟

میری نظر میں اس سوال کا جواب کسی ایک حکومت، کسی ایک جماعت یا کسی ایک شخصیت میں نہیں ہے۔

پاکستان کا اصل مسئلہ نظام کا مسئلہ ہے۔

اور نظام کو درست کیے بغیر چہرے بدلنے سے حالات نہیں بدلتے۔

ہمیں حکومت نہیں، حکمرانی بدلنی ہوگی

پاکستان میں حکومتیں آتی رہی ہیں، جاتی رہی ہیں۔ پالیسیاں بنتی رہی ہیں، ختم ہوتی رہی ہیں۔ منصوبے شروع ہوتے رہے ہیں، ادھورے رہتے رہے ہیں۔

ہم نے سیاسی تبدیلی کو ہی قومی تبدیلی سمجھ لیا۔

یہ ہماری سب سے بڑی غلطیوں میں سے ایک ہے۔

ہمیں اب یہ سوچنا ہوگا کہ حکومت کوئی بھی ہو، ریاست کا نظام ایسا ہونا چاہیے جو قانون، میرٹ، شفافیت اور قومی مفاد کے مطابق مسلسل چلتا رہے۔

مکمل پاکستان پارٹی کا بنیادی مؤقف یہی ہے کہ پاکستان کو شخصیات کے بجائے اداروں، قانون اور مضبوط نظام کے ذریعے چلایا جائے۔

معیشت کو قرض سے پیداوار کی طرف لے جانا ہوگا

ایک ملک مسلسل قرض لے کر ترقی نہیں کرسکتا۔

پاکستان کو اپنی معیشت کی بنیاد پیداوار، صنعت، زراعت، برآمدات، ٹیکنالوجی اور انسانی وسائل پر رکھنا ہوگی۔

ہمیں ایسے معاشی نظام کی ضرورت ہے جہاں صنعت کار کو سہولت ملے، تاجر کو تحفظ ملے، کسان کو اس کی محنت کا صحیح معاوضہ ملے اور نوجوان کو روزگار کے لیے ملک سے باہر جانے پر مجبور نہ ہونا پڑے۔

پاکستان کی سب سے بڑی معاشی پالیسی یہ ہونی چاہیے:

جو چیز ہم باہر سے خریدتے ہیں، جہاں ممکن ہو اسے پاکستان میں بنائیں، اور جو چیز پاکستان دنیا کو دے سکتا ہے اسے دنیا تک پہنچائیں۔

یہی خود انحصاری کی بنیاد ہے۔

نوجوانوں کو ووٹ نہیں، مستقبل چاہیے

پاکستان کے نوجوان صرف تقریریں نہیں چاہتے۔

وہ تعلیم چاہتے ہیں، ہنر چاہتے ہیں، روزگار چاہتے ہیں، کاروبار کے مواقع چاہتے ہیں اور ایک ایسا ماحول چاہتے ہیں جہاں میرٹ پر آگے بڑھ سکیں۔

آج دنیا Artificial Intelligence، روبوٹکس، جدید انجینئرنگ، ڈیجیٹل تجارت اور نئی ٹیکنالوجی کی طرف جا رہی ہے۔

اگر پاکستان نے اپنے نوجوانوں کو اس انقلاب سے جوڑ دیا تو ہماری نوجوان آبادی بوجھ نہیں رہے گی، بلکہ پاکستان کی سب سے بڑی معاشی طاقت بن جائے گی۔

ہمیں ہر ضلع میں جدید ٹیکنیکل اور ڈیجیٹل اسکلز سینٹرز قائم کرنے چاہئیں اور نوجوانوں کو عالمی مارکیٹ کے لیے تیار کرنا چاہیے۔

تعلیم کا مقصد صرف ڈگری نہیں، قابلیت ہونی چاہیے

ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ موجودہ تعلیمی نظام کو بنیادی اصلاحات کی ضرورت ہے۔

پاکستان میں ایسا تعلیمی نظام ہونا چاہیے جو بچے کو صرف امتحان پاس کرنا نہ سکھائے بلکہ اسے سوچنا، تحقیق کرنا، کردار بنانا اور اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا سکھائے۔

دینی و اخلاقی تربیت کے ساتھ سائنس، ٹیکنالوجی، کمپیوٹر، مصنوعی ذہانت، زبانیں اور فنی تعلیم کو یکساں اہمیت دینا ہوگی۔

ہمیں ایسا پاکستان بنانا ہے جہاں ایک غریب کا بچہ بھی عالمی معیار کی تعلیم حاصل کر سکے۔

صحت ہر شہری کا بنیادی حق ہے

ایک عام پاکستانی اپنی زندگی کی جمع پونجی علاج پر خرچ کرنے پر مجبور ہو جائے تو یہ صرف طبی مسئلہ نہیں، ریاستی مسئلہ ہے۔

بنیادی صحت کے مراکز کو فعال کرنا، ضلعی ہسپتالوں کو جدید بنانا، ضروری ادویات کی دستیابی یقینی بنانا اور دیہی علاقوں میں طبی سہولیات پہنچانا ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہونی چاہیے۔

جدید ٹیکنالوجی اور ٹیلی میڈیسن کے ذریعے دور دراز علاقوں کے لوگوں کو بھی بڑے طبی مراکز سے جوڑا جا سکتا ہے۔

اختیار اسلام آباد سے گلی تک پہنچانا ہوگا

پاکستان کے بہت سے مسائل کا حل اسلام آباد کے دفاتر میں نہیں بلکہ مقامی سطح پر موجود ہے۔

صفائی، پانی، سڑکیں، سیوریج، پارکس، مقامی ٹرانسپورٹ اور بنیادی شہری سہولیات کا فیصلہ مقامی لوگوں کے قریب ہونا چاہیے۔

اسی لیے مکمل پاکستان پارٹی مضبوط، بااختیار اور مستقل بلدیاتی نظام کو پاکستان کی انتظامی اصلاحات کا بنیادی ستون سمجھتی ہے۔

جس شہر کا مسئلہ ہے، اس شہر کے لوگوں کو ہی اس کے حل کا اختیار ملنا چاہیے۔

انصاف میں تاخیر، انصاف سے انکار کے برابر نہیں تو اس کے قریب ضرور ہے

پاکستان میں قانون کی حکمرانی اس وقت مضبوط ہوگی جب عام شہری کو یقین ہوگا کہ عدالت کا دروازہ اس کے لیے بھی اتنا ہی کھلا ہے جتنا طاقتور شخص کے لیے۔

مقدمات کے جلد فیصلے، جدید عدالتی نظام، ٹیکنالوجی کا استعمال اور عام شہری کے لیے آسان قانونی رسائی وقت کی ضرورت ہے۔

ریاست میں طاقت کا اصل مرکز قانون ہونا چاہیے۔

نہ شخصیت، نہ عہدہ، نہ دولت۔

کرپشن کے خلاف صرف تقریریں نہیں، نظام کی اصلاح ضروری ہے

ہم کئی دہائیوں سے کرپشن کے خلاف بات کر رہے ہیں، لیکن صرف نعرے کرپشن ختم نہیں کرتے۔

ہمیں ایسا ڈیجیٹل نظام بنانا ہوگا جہاں سرکاری معاملات زیادہ سے زیادہ شفاف ہوں، فیصلوں کا ریکارڈ موجود ہو، سرکاری خریداری قابلِ نگرانی ہو اور عوام کو معلوم ہو کہ ان کے ٹیکس کا پیسہ کہاں خرچ ہو رہا ہے۔

شفاف نظام ہی مضبوط احتساب کی بنیاد ہے۔

کسان کو مضبوط کیے بغیر پاکستان مضبوط نہیں ہوگا

پاکستان کی زمین زرخیز ہے، لیکن ہمارا کسان اب بھی پانی، بیج، کھاد، مشینری، منڈی اور مناسب قیمت جیسے مسائل سے دوچار ہے۔

ہمیں زراعت کو روایتی انداز سے نکال کر جدید زرعی معیشت میں تبدیل کرنا ہوگا۔

جدید آبپاشی، زرعی تحقیق، ٹیکنالوجی، اسٹوریج، فوڈ پروسیسنگ اور برآمدات پر توجہ دے کر پاکستان نہ صرف اپنی غذائی ضروریات پوری کر سکتا ہے بلکہ دنیا کی بڑی زرعی منڈیوں میں جگہ بنا سکتا ہے۔

پاکستان کو دنیا سے مقابلہ کرنا ہے

آج دنیا تیزی سے بدل رہی ہے۔

چین ٹیکنالوجی اور صنعت میں آگے بڑھ رہا ہے۔ امریکہ تحقیق اور innovation میں اپنی طاقت برقرار رکھے ہوئے ہے۔ یورپ جدید صنعت اور معیار پر توجہ دے رہا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ اپنی معیشت کو نئی سمت دے رہا ہے۔

پاکستان کو کسی کی نقل نہیں کرنی۔

ہمیں اپنا پاکستانی ماڈل بنانا ہے۔

ایسا ماڈل جس میں ہماری اقدار بھی محفوظ رہیں، ہماری معیشت بھی مضبوط ہو، ہماری نوجوان نسل بھی جدید علم سے آراستہ ہو اور ہماری ریاست بھی دنیا کے جدید ممالک کے ساتھ کھڑی ہو سکے۔

اب وقت فیصلے کا ہے

ہم ماضی کو الزام دے کر مستقبل نہیں بنا سکتے۔

ہمیں یہ طے کرنا ہوگا کہ اگلے دس، بیس اور پچاس سال کا پاکستان کیسا ہوگا۔

کیا ہمارا نوجوان روزگار کے لیے دروازے کھٹکھٹاتا رہے گا؟

کیا ہمارا کسان اپنی فصل کی مناسب قیمت کے لیے پریشان رہے گا؟

کیا ایک عام شہری انصاف کے لیے سالہا سال انتظار کرتا رہے گا؟

کیا ہمارا ملک ہر معاشی بحران میں بیرونی مدد کا منتظر رہے گا؟

نہیں۔

مکمل پاکستان پارٹی سمجھتی ہے کہ پاکستان کے پاس وسائل بھی ہیں، نوجوان بھی ہیں، ذہانت بھی ہے، جغرافیائی اہمیت بھی ہے اور دنیا میں اپنا مقام بنانے کی مکمل صلاحیت بھی ہے۔

کمی صرف ایک چیز کی ہے:

ایک مستقل قومی سمت۔

ہمیں سیاسی اختلاف ضرور رکھنا چاہیے، مگر قومی مفاد پر اختلاف نہیں ہونا چاہیے۔

ہمیں حکومتیں بدلنے سے زیادہ نظام بہتر کرنے پر توجہ دینا ہوگی۔

ہمیں شخصیت پرستی سے نکل کر ادارہ سازی کی طرف جانا ہوگا۔

ہمیں وقتی فیصلوں سے نکل کر طویل المدتی منصوبہ بندی کی طرف جانا ہوگا۔

اور سب سے بڑھ کر ہمیں یہ یقین پیدا کرنا ہوگا کہ:

پاکستان صرف چلانے کے لیے نہیں بنا تھا، پاکستان کو کامیاب بنانے کے لیے بنایا گیا تھا۔

میرا یقین ہے کہ پاکستان ایک مضبوط، باوقار، خوشحال اور جدید ریاست بن سکتا ہے۔

لیکن اس کے لیے ہمیں ماضی کی غلطیوں کو دہرانے کے بجائے ایک نئی سمت اختیار کرنا ہوگی۔

مکمل پاکستان پارٹی کا پیغام واضح ہے:

پاکستان کو مزید تجربات نہیں، ایک مکمل اور مضبوط نظام چاہیے۔

پاکستان کو مزید نعروں کی نہیں، عملی اصلاحات کی ضرورت ہے۔

پاکستان کو تقسیم نہیں، تنظیم چاہیے۔

پاکستان کو مایوسی نہیں، مستقبل کی امید چاہیے۔

اور ہمیں ایسا پاکستان بنانا ہے جہاں ریاست مضبوط ہو، ادارے بااختیار ہوں، قانون سب کے لیے برابر ہو اور عام پاکستانی عزت، امن، تعلیم، صحت اور خوشحالی کے ساتھ زندگی گزار سکے۔

یہی مکمل پاکستان کا خواب ہے، اور یہی ہماری جدوجہد کا مقصد ہے۔

محمد عبدالمتین ہاشمی
چیئرمین، مکمل پاکستان پارٹی