0092-313-5000-734    
Jobs  |   20 Sep 2026

پنجاب اسمبلی کا اجلاس عوامی امنگوں کا مرکز

| 20 Sep 2026  

سیاست کا ماتھے کا جھومر: خطہ پوٹھوہار کی ’تھری ان ون‘ مثالی جوڑی کے پارلیمنٹ میں چرچے
پنجاب اسمبلی کا اجلاس عوامی امنگوں کا مرکز؛ چوہدری نعیم اعجاز، عمران الیاس اور محسن ایوب خان کی عوامی مقبولیت نے مخالفین کے گرد اڑاتی دھول بٹھا دی

راولپنڈی (خصوصی رپورٹ):
گزشتہ روز پنجاب اسمبلی کا اجلاس اس وقت ایک یادگار منظر پیش کر رہا تھا جب خطہ پوٹھوہار کی وہ ’تھری ان ون‘ جوڑی ایوان میں داخل ہوئی جس نے اپنی کارکردگی سے نہ صرف عوامی دل جیتے بلکہ سیاست کے مروجہ اصولوں کو خدمتِ خلق میں بدل کر رکھ دیا۔ پارلیمانی سیکرٹری چوہدری نعیم اعجاز، ایم پی اے چوہدری عمران الیاس اور ایم پی اے محسن ایوب خان کا اتحاد آج کل ہر خاص و عام کی زبان پر ہے۔
شرافت اور سیاسی بصیرت کا سنگم
نوجوان قیادت کی علامت چوہدری عمران الیاس، جن کا تعلق ایک معتبر سیاسی خاندان سے ہے، اپنی حق گوئی اور بے باک لہجے کی وجہ سے پہچانے جاتے ہیں۔ ان کا خاصہ صرف سیاست نہیں بلکہ وہ بلند اخلاق ہے جس کے باعث وہ چھوٹوں سے شفقت اور بزرگوں کے ادب و احترام میں اپنی مثال آپ ہیں۔ اپنے علم اور تجربے کی بدولت وہ دن بدن عوامی مقبولیت کی بلندیوں کو چھو رہے ہیں اور ثابت کر رہے ہیں کہ سیاست اصل میں کردار کا نام ہے۔
دوسری جانب محسن ایوب خان ہیں، جن کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ جرگہ ہو یا کوئی اجتماعی مسئلہ، محسن ایوب خان کی موجودگی حل کی ضمانت سمجھی جاتی ہے۔ ان کے حلقے کے بزرگ، خواتین اور نوجوان جس اعتماد کا اظہار ان پر کرتے ہیں، وہ ان کے سیاسی قد کاٹھ کو چار چاند لگا دیتا ہے۔ ان کا منفرد مقام ان کی دن رات کی محنت اور عوام کے ساتھ براہ راست رابطے کا مرہونِ منت ہے۔
مخالفین کی سازشیں اور خدمت کا سفر
جہاں تک بات ہے پارلیمانی سیکرٹری چوہدری نعیم اعجاز کی، تو ان کا سیاست میں قدم رکھنا ایک طوفان سے کم نہ تھا۔ دشمنی ہو یا دوستی، وہ پورے قد سے نبھاتے ہیں۔ ان کے خلاف اپنوں اور بیگانوں نے سازشوں کے جال بنے، کاروباری اور سیاسی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی ناکام کوششیں کیں، مگر بقول شاعرِ مشرق:

تندیِ بادِ مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب
یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لیے
چوہدری نعیم اعجاز نے الزامات اور سکینڈلز کا جواب صرف اور صرف عوامی خدمت سے دیا۔ اپنی جیب سے ترقیاتی کاموں کے جال بچھانا، لوگوں کے دکھ درد میں شریک ہونا اور پبلک سیکرٹریٹ کا قیام عمل میں لانا ان کے وہ کارنامے ہیں جن کی وجہ سے ان سے ملنے والا ہر شخص ان کا گرویدہ ہو جاتا ہے۔ نوکری کا مسئلہ ہو یا کوئی ذاتی الجھن، وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر اسے دہلیز پر حل کرنے کا عزم رکھتے ہیں۔

عوامی لیڈر: ہر جگہ موجود
اسمبلی کا فلور ہو، علاقے کی کوئی فوتگی یا جنازہ، جلسہ ہو یا کوئی اہم میٹنگ—یہ مثالی جوڑی ہمیشہ ایک صف میں کھڑی نظر آتی ہے۔ ان کا مقصد صرف کرسی نہیں بلکہ “خانہ بدوش” بن کر عوام کے مسائل کے لیے در در جا کر حل نکالنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج دنیا انہیں محض سیاستدان نہیں بلکہ حقیقی عوامی لیڈر مانتی ہے۔