0092-313-5000-734    
Jobs  |   25 Jul 2026
Latest News
پاکستان میں حالیہ بارشوں سے ہونے والی تباہی پر مکمل پاکستان پارٹی کا مؤقف* ماحولیاتی تبدیلی اور گرین اینڈ کلین پاکستان کے موضوع پر پینل ڈسکشن سے چیئرمین مکمل پاکستان پارٹی محمد عبدالمتین ہاشمی کا خطاب بلوچستان میں دہشتگردوں کے خلاف کامیاب کارروائی پر محمد عبدالمتین ہاشمی، چیئرمین مکمل پاکستان پارٹی کا بیان مکمل پاکستان پارٹی کے اسلام آباد میں دفتر کا افتتاح، اردو کو عملی طور پر دفتری، تعلیمی اور انتظامی زبان بنایا جائے، محمد عبدالمتین ہاشمی پاکستانی روپے کے لیے ایک منفرد قومی علامت (لوگو) متعارف کرانے کا اعلان بلوچستان میں دہشتگردوں کے ہاتھوں 5 بے گناہ پنجابی مزدوروں کی شہادت انتہائی افسوسناک، قابلِ مذمت اور انسانیت سوز واقعہ ہے۔ یومِ شہدائے کشمیر (13 جولائی) پر مکمل پاکستان پارٹی کے چیئرمین محمد عبدالمتین ہاشمی کا بیان بلوچستان کے ضلع زیارت میں دہشتگردی کے المناک واقعے میں پولیس اہلکاروں کی شہادت کی خبر انتہائی افسوسناک

جب تک ہماری پیداواری قوت نہیں بڑھے گی اور خرچے کم نہی  ں ہوں گے، کوئی خوشحالی نہیں آ سکتی۔ ,ڈاکٹر شہناز خان وائس چیئرپرسن برابری پارٹی پاکستان

| 26 Jul 2024  

جب تک ہماری پیداواری قوت نہیں بڑھے گی اور خرچے کم نہی  ں ہوں گے، کوئی خوشحالی نہیں آ سکتی۔

پیداواری قوت بڑھانے کے لئے:
1۔ انڈسٹری لگانا ہو گی اس میں ریاست کو ذمہ داری لینی ہو گی۔
2۔ زراعت کو جدید اصولوں اور ٹیکنولوجی کو چلانا یو گا۔
3۔ بجلی اور پانی کی مینیجمنٹ پر توجہ دینی ہو گی
4۔ نوجوان نسل کو سائینس ٹیکنولوجی، منطق، critical thinking , problem solving کی ٹریننگ دینی ہو گی۔
5۔ خواتین کو تعلیم، ٹریننگ اور جاب کے برابری کی بنیاد پر مواقع مہیا کرنے ہوں گے۔انکو سیاسی دھارے میں لانا ہو گا
6۔ ٹیکس کے نظام میں بہت سے ترامیم کرنی ہوں گی۔
7۔ لوکل گورمنٹ سسٹم مضبوط کرنا ہو گا
8۔ ڈیولپمنٹ بجٹ mna, mpa کے ہاتھ میں دینے کے بجائے سینٹرل سطح پر پلاننگ کے بعد لوکل گورنمنٹ کو بھی دینے ہوں گے۔ اس سے ہی مقامی مسلے حل ہوں گے
9۔روزگار پیدا کرنے کے لئے باقاعدہ پلاننگ کرنی ہو گی
10۔ لینڈ ریفارم کرنی اور لینڈ مافیا کا خاتمہ

خرچے کم کرنے کے لئے:

1۔ تمام non productive اخراجات کم کرنے ہوں گے، اس میں حکومتی اعلی عہدے داروں کی مراعات شامل ہیں، اور فوج ، بیوروکریسی، عدلیہ، منتخب نمائندے سب شامل ہیں
2۔ سرمایہ داروں اور صنعتکاروں کو سبسیڈی دینا بند کرنی ہو گی۔
3۔ ایمنسٹی سکیمیں ختم کرنی ہوں گی
4۔ اور بڑھتی ہوئی آبادی کو کنٹرول کرنا ہو گا۔ جس طرح غبارے میں ایک حد سے زیادہ ہوا بھرنے سے غبارہ پھٹ جاتا ہے، وہی حال ملک کا بھی ہو گا۔

لیکن سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ یہ سب ہو گا کیسے؟ کیونکہ اس وقت کا حکمرانی طبقہ تو یہ نہیں کرے گا۔
اس کے لئے عام لوگوں کو خود سیاست میں منظم ہو کر ایک قوت بننا ہو گا۔
برابری پارٹی جواد احمد نے اسی لئے قائم کی ہے۔

لیکن عام لوگ تو آپس میں لڑنے کو ہر وقت تیار ہیں۔
ابھی محرم پر ریاست کو لڑائی جھگڑے کے مواقع نہ دینے کے لئے سیکیورٹی انتظامات کرنے پڑے۔ اگر ہم میں مذہبی رواداری بھی نہیں ہے، تو صوبائت، فرقے، رنگ نسل، ذات برادری، قبیلے کے اختلافات کیسے ختم ہوں گے؟
یہ سوالات ہیں جن کا جواب دئے بغیر ہم ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھا سکتے۔