پاکستان میں ہر سال مون سون کی بارشوں کے دوران جانی و مالی نقصان کیوں ہوتا ہے؟ آخر وہ کون سی وجوہات ہیں جن کی وجہ سے ہر سال یہی صورتحال دوبارہ جنم لیتی ہے، مگر مستقل حل آج تک سامنے نہیں آ سکا؟
مکمل پاکستان پارٹی حالیہ بارشوں کے نتیجے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتی ہے، زخمیوں کی جلد صحت یابی اور متاثرہ خاندانوں کے لیے دعاگو ہے۔
ہم حکومت سے سوال کرتے ہیں کہ جب ہر سال بارشوں اور سیلاب کا موسم آتا ہے تو پیشگی منصوبہ بندی کیوں نہیں کی جاتی؟ نکاسیٔ آب کے نظام کو بروقت بہتر کیوں نہیں بنایا جاتا؟ نشیبی علاقوں کی نشاندہی، حفاظتی انتظامات اور ہنگامی امدادی نظام پہلے سے کیوں فعال نہیں ہوتے؟
مکمل پاکستان پارٹی کا مطالبہ ہے کہ حکومت فوری طور پر متاثرہ علاقوں میں ریسکیو اور ریلیف سرگرمیوں کو مزید مؤثر بنائے، متاثرین کو مالی امداد، عارضی رہائش اور طبی سہولیات فراہم کرے، اور ساتھ ہی ایک قومی سطح کا مستقل فلڈ مینجمنٹ اور ڈیزاسٹر پریوینشن پلان تشکیل دے تاکہ ہر سال ہونے والے نقصانات کا سدباب کیا جا سکے۔
ہم سمجھتے ہیں کہ صرف حادثات کے بعد کارروائی کافی نہیں، بلکہ *پیشگی تیاری، مؤثر منصوبہ بندی اور احتساب* ہی اس مسئلے کا دیرپا حل ہے۔ اسمبلی میں اس اہم مسئلے پر سنجیدہ بحث ہونی چاہیے اور حکومت کو عوام کے سامنے واضح کرنا چاہیے کہ آئندہ ایسے سانحات کی روک تھام کے لیے اس کا عملی منصوبہ کیا ہے۔
مکمل پاکستان پارٹی تمام شہریوں سے اپیل کرتی ہے کہ بارشوں کے دوران احتیاطی تدابیر اختیار کریں، غیر ضروری سفر سے گریز کریں، برساتی نالوں اور نشیبی علاقوں سے دور رہیں اور متعلقہ اداروں کی ہدایات پر عمل کریں۔
*عوام کی جان و مال کا تحفظ حکومت کی اولین ذمہ داری ہے، اور اب وقت آ گیا ہے کہ عارضی اقدامات کے بجائے مستقل اور مؤثر حل اختیار کیا جائے

0092-313-5000-734
