0092-313-5000-734    
Jobs  |   19 Oct 2026

باصلاحیت پاکستانیوں کی بیرونِ ملک روانگی — آخر ہم اپنے ملک میں روزگار کے مواقع کیوں پیدا نہیں کر پا رہے؟

| 19 Oct 2026  
پاکستان سے بیرونِ ملک روزگار کے حصول کے لیے جانے والے شہریوں کی بڑھتی ہوئی تعداد ہمارے قومی، معاشی اور تعلیمی نظام کے لیے ایک اہم سوال بن چکی ہے۔ قومی اسمبلی میں پیش کردہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سال 2024 سے 2026 کے دوران اب تک *18 لاکھ 71 ہزار 666 پاکستانی روزگار کے حصول کے لیے بیرونِ ملک جا چکے ہیں۔* ان میں نہ صرف عام محنت کش بلکہ اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد، ڈاکٹرز، انجینئرز، منیجرز، اکاؤنٹنٹس، آئی ٹی ماہرین، اساتذہ اور نرسیں بھی شامل ہیں۔
📊 *سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اہم شعبوں کی تفصیلات:*
🔹 اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد: 90,406
🔹 منیجرز: 38,426
🔹 انجینئرز: 17,565
🔹 اکاؤنٹنٹس: 10,855
🔹 ڈاکٹرز: 9,513
🔹 اساتذہ: 4,911
🔹 نرسیں: 4,295
یہ اعداد و شمار ہمیں سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ جن افراد کی تعلیم و تربیت پر ہمارے خاندان اپنی جمع پونجی خرچ کرتے ہیں، جن نوجوانوں کی صلاحیتوں سے ہمارے ملک کے تعلیمی ادارے، ہسپتال، صنعتیں اور کاروباری شعبے مضبوط ہو سکتے ہیں، وہ اپنے مستقبل کے لیے بیرونِ ملک مواقع تلاش کرنے پر کیوں مجبور ہوتے ہیں؟
*کیا پاکستان میں محنت کرنے والے نوجوانوں کے لیے ایسا ماحول موجود ہے جہاں انہیں ان کی قابلیت کے مطابق روزگار، مناسب معاوضہ، ترقی کے مواقع اور اپنے مستقبل کے تحفظ کا یقین ہو؟*
ہمیں اس مسئلے کو صرف بیرونِ ملک جانے والے افراد کی تعداد کے طور پر نہیں دیکھنا چاہیے، بلکہ اس کے پیچھے موجود معاشی اور معاشرتی وجوہات کو سمجھنا ہوگا۔ جب ایک تعلیم یافتہ نوجوان برسوں تعلیم حاصل کرنے کے باوجود اپنی صلاحیتوں کے مطابق روزگار حاصل نہیں کر پاتا، جب ایک ہنرمند شخص کو اپنا کام شروع کرنے کے لیے سرمایہ، تربیت اور کاروباری سہولتیں میسر نہیں ہوتیں، اور جب چھوٹے کاروباری افراد کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو ملک کی مجموعی معاشی ترقی بھی متاثر ہوتی ہے۔
ہمیں یہ بھی تسلیم کرنا چاہیے کہ بیرونِ ملک روزگار حاصل کرنا بذاتِ خود کوئی غلط بات نہیں۔ بیرونِ ملک مقیم پاکستانی ملک کے لیے قیمتی زرمبادلہ بھیجتے ہیں اور اپنی محنت سے اپنے خاندانوں کی زندگی بہتر بناتے ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ *کیا ہمارے شہریوں کو پاکستان میں رہتے ہوئے بھی ترقی کرنے، باعزت روزگار حاصل کرنے اور اپنے خواب پورے کرنے کے مناسب مواقع میسر ہیں؟*
### مکمل پاکستان پارٹی کا وژن اور عملی راستہ
مکمل پاکستان پارٹی کا وژن ایک ایسے پاکستان کی تعمیر ہے جہاں تعلیم محض ڈگری حاصل کرنے کا ذریعہ نہ ہو بلکہ انسان کو ہنرمند، باصلاحیت، خودمختار اور معاشی طور پر مضبوط بنانے کا وسیلہ بنے۔ ہمارا مقصد ایسا معاشی ماحول پیدا کرنا ہے جہاں نوجوانوں کو روزگار کے لیے اپنے ملک سے باہر جانے کو واحد راستہ نہ سمجھنا پڑے، بلکہ وہ پاکستان میں رہ کر بھی اپنے مستقبل کی تعمیر کر سکیں۔
*ہمارے وژن کے اہم نکات
🔹 تعلیم کو روزگار اور ہنر سے جوڑنا
🔹 پاکستان میں صنعتوں اور فیکٹریوں کا فروغ
🔹 کاروبار کے لیے سازگار ماحول
🔹 نوجوانوں اور ہنرمند افراد کی عملی تربیت
🔹 مقامی وسائل اور صلاحیتوں سے مقامی ترقی
🔹 کاروباری افراد، سرمایہ کاروں اور نوجوانوں کے درمیان رابطہ
ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم کس قسم کا پاکستان چاہتے ہیں!
کیا ہم ایسا پاکستان چاہتے ہیں جہاں نوجوان ڈگری حاصل کرنے کے بعد ملازمت کی تلاش میں سالہا سال گزار دیں، جہاں ہنرمند افراد اپنی صلاحیتوں کو استعمال کرنے کے لیے دوسرے ممالک کا رخ کریں، اور جہاں کاروبار شروع کرنے کے خواہش مند افراد کو مناسب مواقع میسر نہ ہوں؟
یا ہم ایسا پاکستان تعمیر کرنا چاہتے ہیں جہاں معیاری تعلیم کے ساتھ ہنر بھی حاصل ہو، جہاں فیکٹریاں اور صنعتیں چلیں، جہاں چھوٹے بڑے کاروبار ترقی کریں، جہاں سرمایہ کاری کے مواقع پیدا ہوں، اور جہاں نوجوان اپنی محنت، قابلیت اور صلاحیت کے ذریعے اپنے خاندان اور ملک کی معیشت کو مضبوط بنا سکیں؟
*مکمل پاکستان پارٹی سمجھتی ہے کہ پاکستان کی ترقی کا راستہ صرف ملازمتوں کے اعلانات سے نہیں بلکہ تعلیم، ہنرمندی، پیداوار، صنعت، کاروبار اور معاشی مواقع کے ایک مضبوط نظام سے نکلتا ہے۔* ہمیں ایسے حالات پیدا کرنے کی ضرورت ہے جہاں نوجوانوں کو اپنے ملک میں آگے بڑھنے کا حقیقی موقع ملے اور پاکستان کی صلاحیتیں پاکستان کی تعمیر و ترقی میں زیادہ مؤثر انداز میں استعمال ہو سکیں۔
ہم عوام، ماہرینِ تعلیم، صنعت کاروں، کاروباری افراد، سرمایہ کاروں اور نوجوانوں سے یہ سوال کرتے ہیں:
*آپ کے خیال میں پاکستان میں روزگار کے مواقع بڑھانے کے لیے سب سے پہلے کس شعبے پر توجہ دینی چاہیے؟ تعلیم اور فنی تربیت، نئی فیکٹریوں کا قیام، کاروبار میں آسانیاں، مقامی صنعتوں کا فروغ یا نوجوانوں کے لیے سرمایہ کاری کے مواقع؟*
آئیے، اس اہم قومی مسئلے پر سنجیدہ گفتگو کریں اور ایسے قابلِ عمل راستوں پر غور کریں جو پاکستان کو معاشی طور پر مضبوط، خودکفیل اور اپنے نوجوانوں کے لیے مواقع سے بھرپور ملک بنانے میں مدد دے سکیں۔
*ایمان، اتحاد، تنظیم اور عدل — مستقبل ہمارا*
*محمد عبدالمتین ہاشمی*
چیئرمین، مکمل پاکستان پارٹی
ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم کس قسم کا پاکستان چاہتے ہیں!
کیا ہم ایسا پاکستان چاہتے ہیں جہاں نوجوان ڈگری حاصل کرنے کے بعد ملازمت کی تلاش میں سالہا سال گزار دیں، جہاں ہنرمند افراد اپنی صلاحیتوں کو استعمال کرنے کے لیے دوسرے ممالک کا رخ کریں، اور جہاں کاروبار شروع کرنے کے خواہش مند افراد کو مناسب مواقع میسر نہ ہوں؟
یا ہم ایسا پاکستان تعمیر کرنا چاہتے ہیں جہاں معیاری تعلیم کے ساتھ ہنر بھی حاصل ہو، جہاں فیکٹریاں اور صنعتیں چلیں، جہاں چھوٹے بڑے کاروبار ترقی کریں، جہاں سرمایہ کاری کے مواقع پیدا ہوں، اور جہاں نوجوان اپنی محنت، قابلیت اور صلاحیت کے ذریعے اپنے خاندان اور ملک کی معیشت کو مضبوط بنا سکیں؟
*مکمل پاکستان پارٹی سمجھتی ہے کہ پاکستان کی ترقی کا راستہ صرف ملازمتوں کے اعلانات سے نہیں بلکہ تعلیم، ہنرمندی، پیداوار، صنعت، کاروبار اور معاشی مواقع کے ایک مضبوط نظام سے نکلتا ہے۔* ہمیں ایسے حالات پیدا کرنے کی ضرورت ہے جہاں نوجوانوں کو اپنے ملک میں آگے بڑھنے کا حقیقی موقع ملے اور پاکستان کی صلاحیتیں پاکستان کی تعمیر و ترقی میں زیادہ مؤثر انداز میں استعمال ہو سکیں۔
ہم عوام، ماہرینِ تعلیم، صنعت کاروں، کاروباری افراد، سرمایہ کاروں اور نوجوانوں سے یہ سوال کرتے ہیں:
*آپ کے خیال میں پاکستان میں روزگار کے مواقع بڑھانے کے لیے سب سے پہلے کس شعبے پر توجہ دینی چاہیے؟ تعلیم اور فنی تربیت، نئی فیکٹریوں کا قیام، کاروبار میں آسانیاں، مقامی صنعتوں کا فروغ یا نوجوانوں کے لیے سرمایہ کاری کے مواقع؟*
آئیے، اس اہم قومی مسئلے پر سنجیدہ گفتگو کریں اور ایسے قابلِ عمل راستوں پر غور کریں جو پاکستان کو معاشی طور پر مضبوط، خودکفیل اور اپنے نوجوانوں کے لیے مواقع سے بھرپور ملک بنانے میں مدد دے سکیں۔
*ایمان، اتحاد، تنظیم اور عدل — مستقبل ہمارا*
*محمد عبدالمتین ہاشمی*
چیئرمین، مکمل پاکستان پارٹی