آج سے 1500 سال پہلے ہمارا جو معاشرہ تھا جس میں ماں ،بہن اور بیوی تھی لیکن ان کا کوئی مقام نہیں تھا قابل عزت، قابل احترام نہیں تھیں لیکن ہمارے اللہ نے اس ذلت کو ختم کرنے کے لیے ہمارے نبی حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کو بھیجا تاکہ عورت کو سوسائٹی میں اس کامقام مل سکے ہمارے نبی صہ نے عورت کوان کے بنیادی حقوق دے کر ان کو مردوں کے شانہ بشانہ کھڑا کیا لیکن آج کل کی سوسائٹی اس تعلیم کو بھول چکی ہے جس طرح سے ایک گھر صرف مرد نہیں چلا سکتا ویسے ہی ملک بھی صرف مردوں کی محنت سے نہیں چل سکتا جب تک ہم اپنی کوشش اپنی محنت کو استعمال نہیں کریں گی مرد کے ساتھ مل کر کام نہیں کریں گی تب تک ہمارا ملک ترقی نہیں کر سگتا اگر ہم دوسرے ممالک کو دیکھیں جو ترقی کر رہے ہیں تو ہمیں یہ دیکھنے کو ملے گا کے وہاں کی عورتیں ہر کام میں آگے ہیں
ہم چاہے کہ ہم یہاں ایسا ماحول بنائیں کہ یہاں ہر بچی تعلیم لے نا صرف تعلیم لے بلکہ اگے کام بھی کرے ہمارے معاشرے میں پہلی بات ہے تعلیم نہیں دلواتے اگر دلواتے ہیں تو تعلیم دلوا کر گھر میں بیٹھا دیا ہے ان سب باتوں کو لے کر ہمیں یہ ثابت کرنا ہو گا کے ہم گھر کے کاموں کے ساتھ ساتھ ہم با ہر کا کام بھی کر سکتی ہیں اس کیلیے ہمیں خود پہ اور خدا پہ یقین رکھنا ہےاور اس کے ساتھ میری مرد حضرات سے اپیل ہے کہ جہاں وہ اپنی بہن بیٹی یا ماں کو عزت دیتے ہیں وہاں وہ دوسروں کی ماں بہن بیٹی کو عزت دیں
حسیبہ بلوچ
آج سے 1500 سال پہلے ہمارا جو معاشرہ تھا جس میں ماں ،بہن اور بیوی تھی لیکن ان کا کوئی مقام نہیں تھا – حسیبہ بلوچ
| 18 Mar 2025
